کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں مبینہ سائبر فراڈ کے بڑے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 42 کم عمر بچوں سمیت 273 افراد کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد میں 100 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ عدالت نے مقدمے کے 9 مرکزی ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے جمعرات کو کراچی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی شاہراہ فیصل کے قریب پی ای سی ایچ ایس میں قائم ایک کال سینٹر میں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں غیر ملکی شہریوں سے سائبر فراڈ کرنے والے 3 جعلی کال سینٹرز پر چھاپے، 59 ملزمان گرفتار
انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران 3 ہزار 390 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور 4 کمپیوٹر یونٹس قبضے میں لیے گئے۔
شہزاد اکبر کے مطابق ضبط کیے گئے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کے فرانزک معائنے سے انکشاف ہوا کہ بیرون ملک موجود افراد بھی کمپنی کی دھوکا دہی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، جبکہ بعض تاجر بھی اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ انفرادی لیپ ٹاپس پر مختلف ناموں سے رجسٹرڈ متعدد صارف شناختی اکاؤنٹس بھی کھلے ہوئے پائے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی کال سینٹر شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرکے اسے مختلف دھوکا دہی کی سرگرمیوں میں استعمال کررہے تھے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مطابق اس مرتبہ پہلی بار کمپنی کے مالک کے ساتھ ملازمین کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل صرف کمپنی مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے تھے، تاہم ان کے رشتہ دار نئی کمپنیاں رجسٹر کروا کر انہی ملازمین کے ذریعے دوبارہ سرگرمیاں شروع کردیتے تھے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کراچی میں اس وقت تقریباً 350 کال سینٹرز دھوکا دہی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور حالیہ کارروائی کا نشانہ بننے والا ادارہ شہر کے 3 بڑے فراڈ کال سینٹرز میں شامل تھا۔
9 مرکزی ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ گلریز میمن نے گرفتار 9 مرکزی ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا۔
ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ تفتیشی افسر نے سندھ محکمہ داخلہ کا جاری کردہ نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا، جس کے تحت کال سینٹر کی عمارت کو ذیلی جیل قرار دیا گیا تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کارروائی کے دوران 273 افراد گرفتار کیے گئے ہیں اور انہیں کال سینٹر کی عمارت میں رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو دھوکا دینے میں ملوث ہیں، اس لیے 9 مرکزی ملزمان کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے، جبکہ دیگر گرفتار افراد کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر این سی سی آئی اے کا چھاپہ، 61 ملزمان گرفتار
دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گرفتار افراد میں 70 سے زائد کم عمر بچے اور 80 سے زائد خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے میں شامل دفعات قابل ضمانت ہیں، اس لیے خواتین اور کم عمر ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد 9 مرکزی ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا، جبکہ خواتین اور 18 سال سے کم عمر افراد کو 5 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔ دیگر ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔
کال سینٹر پر چھاپے کے بعد اہل خانہ پریشان
رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے نے 3 نومبر کی رات تقریباً 8 سے 9 بجے شاہراہ فیصل کے قریب پی ای سی ایچ ایس میں واقع ‘ووکسرٹرون’ کال سینٹر پر چھاپہ مارا تھا۔
ایک زیر حراست شخص کے بھائی نے بتایا کہ اس کا بھائی منگل کو دفتر گیا تھا لیکن اگلے روز اسے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 4 نومبر کو جب اس نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے بھائی کے بارے میں دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ کال سینٹر پر جاری کارروائی کے دوران اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ کال سینٹر کے تمام ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور اب ان کے مستقبل کا فیصلہ مجسٹریٹ کریں گے، تاہم مقدمے کی نقل فراہم نہیں کی گئی۔
ایک دوسرے زیر حراست شخص کے رشتہ دار نے بتایا کہ 15 سال پرانی کمپنی پر اس سے قبل بھی 2 مرتبہ چھاپے مارے گئے تھے، لیکن مالک کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی کال سینٹرز میں ملوث 61 مزید غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا گیا
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کمپنی میں 12 سال تک کی عمر کے بچے کام کر رہے تھے تو محکمہ محنت اور دیگر متعلقہ ادارے کہاں تھے اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک مبینہ فراڈ حکام کی نظروں سے کیسے اوجھل رہا؟
این سی سی آئی اے کی حراست میں موجود 17 سالہ لڑکے کے چچا نے بھی شکایت کی کہ حکام اہل خانہ کو ملازمین کے خلاف درج مقدمے کی نقل فراہم نہیں کر رہے، جس کی مدد سے وہ اپنے بچوں کی رہائی کے لیے قانونی کارروائی کرسکیں۔
ایک زیر حراست نوجوان خاتون کی والدہ نے بتایا کہ 3 نومبر سے ان کا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ دوران حراست بیٹی کو کھانا اور پانی فراہم کیا گیا ہے یا نہیں، جبکہ حکام نے اہل خانہ کو مکمل طور پر لاعلم رکھا ہوا ہے۔











