صلحِ حدیبیہ اور قومی مفاہمت

جمعہ 6 نومبر 2026
author image

انعم ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صلحِ حدیبیہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جو آج بھی سیاسی قیادت، سفارت کاری، قومی مفاہمت اور ریاستی حکمتِ عملی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 6 ہجری (628 عیسوی) میں رسول اللہ ﷺ تقریباً 1,400 صحابہ کرامؓ کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ مسلمانوں کا مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ عبادت ادا کرنا تھا، لیکن قریشِ مکہ نے انہیں مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ حالات میں کشیدگی پیدا ہوئی اور دونوں فریقوں کے درمیان تصادم کا امکان بڑھنے لگا۔ ایسے نازک وقت میں رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا اور بالآخر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا جسے صلحِ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ مسلمانوں نے اس سال عمرہ کیے بغیر مدینہ واپس جانے اور اگلے سال تین دن کے لیے مکہ آ کر عمرہ ادا کرنے کی شرط قبول کی۔ انہیں اگلے سال صرف نیام میں بند تلواروں کے ساتھ داخلے کی اجازت دی گئی۔ معاہدے کی ایک اہم اور بظاہر سخت شرط یہ تھی کہ قریش کا کوئی شخص اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر مکہ سے مدینہ آتا تو اسے واپس کیا جائے گا، جبکہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص قریش کے پاس چلا جاتا تو اسے واپس کرنا قریش کے لیے لازم نہیں تھا۔ اس کے علاوہ عرب قبائل کو آزادی دی گئی کہ وہ مسلمانوں یا قریش میں سے جس کے ساتھ چاہیں اتحاد کر سکتے ہیں۔ بظاہر یہ شرائط مسلمانوں کے لیے غیر مساوی اور مشکل تھیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے وقتی جذبات اور فوری سیاسی فائدے کے بجائے امن، وسیع تر اجتماعی مفاد اور مستقبل کے امکانات کو ترجیح دی۔

مذاکرات کے دوران حضرت علیؓ نے معاہدہ تحریر کیا۔ جب انہوں نے محمد رسول اللہ لکھا تو قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو نے اس پر اعتراض کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تنازع بڑھانے کے بجائے عبارت تبدیل کروا کر محمد بن عبداللہ لکھنے کی اجازت دی۔ اسی طرح حضرت ابو جندلؓ کا واقعہ بھی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ہے، جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے، لیکن معاہدے کی شرط کے مطابق انہیں واپس کرنا پڑا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، مگر رسول اللہ ﷺ نے اپنے وعدے اور معاہدے کی پاسداری کو مقدم رکھا۔ یہ واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ حقیقی قیادت جذباتی ردعمل کے بجائے اصول، تحمل اور دوراندیشی سے فیصلے کرتی ہے۔

صلحِ حدیبیہ کو بعض صحابہؓ ابتدا میں بظاہر مسلمانوں کے لیے ایک مشکل سمجھوتہ تصور کر رہے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح کی پہلی آیت میں اسے فتحِ مبین قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا، یعنی بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح عطا فرمائی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں جنگی کشیدگی کم ہوئی، اسلام کی تبلیغ کے لیے پرامن ماحول میسر آیا، مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کیا گیا اور اسلام تیزی سے پھیلا۔ بعد ازاں قریش کے حلیف قبیلے کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی نے ان واقعات کو جنم دیا جو 8 ہجری میں فتح مکہ پر منتج ہوئے۔ یوں جو معاہدہ بظاہر ایک سمجھوتہ دکھائی دیتا تھا، وہ مستقبل میں ایک عظیم کامیابی کا ذریعہ ثابت ہوا۔

اگر ہم پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو صلحِ حدیبیہ کے یہ اصول ہمارے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ملک اس وقت سیاسی تقسیم، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدم اعتماد، اداروں اور سیاسی قوتوں کے مابین کشیدگی، معاشی مشکلات اور جمہوری استحکام کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ سیاسی اختلافات اب محض نظریاتی یا انتخابی مقابلے تک محدود نہیں رہے بلکہ محاذ آرائی، احتجاج، سیاسی مقدمات، الزامات اور ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم نہ کرنے کی روش نے قومی ماحول کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سیاسی قیادت اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی قومی مفاد کے لیے ایک مشترکہ راستہ اختیار نہیں کر سکتی؟

پاکستان کو آج ایسی سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے جو اقتدار اور جماعتی مفادات سے بلند ہو کر ریاست اور عوام کے مستقبل کو ترجیح دے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی کامیابی پاکستان کی کامیابی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت کا حسن اختلافِ رائے میں ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپوزیشن کی آواز سنے، تنقید کو برداشت کرے اور تمام سیاسی قوتوں کے لیے جمہوری گنجائش پیدا کرے۔ اسی طرح اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تعمیری تنقید، متبادل پالیسی اور قومی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔ سیاسی اختلاف کو ریاست سے اختلاف اور حکومتی پالیسی پر تنقید کو ریاست دشمنی قرار دینا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے صحت مند رویہ نہیں ہو سکتا۔

صلحِ حدیبیہ کا پہلا بڑا سبق یہ ہے کہ مذاکرات کمزوری نہیں بلکہ سیاسی پختگی اور قیادت کی بصیرت کی علامت ہیں۔ اگر رسول اللہ ﷺ انتہائی مشکل حالات میں بھی مذاکرات کے ذریعے امن قائم کر سکتے تھے تو آج کے سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا اور اختلافات پر بات کرنا کیوں مشکل ہونا چاہیے؟ سیاسی قیادت کو اپنی انا، ماضی کی تلخیوں اور غیر ضروری شرائط سے نکل کر بامقصد مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ مذاکرات کا مقصد کسی ایک فریق کی فتح یا دوسرے کی شکست نہیں بلکہ قومی مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ بعض معاملات میں لچک دکھانا اصولوں سے دستبرداری نہیں ہوتا، بلکہ بڑے مقصد کے حصول کے لیے سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ تاہم آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق، پارلیمان کی خودمختاری اور جمہوری آزادیوں جیسے بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

صلحِ حدیبیہ ہمیں معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کا بھی درس دیتی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاملات کو محض وقتی سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ قومی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ اگر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور طے شدہ معاہدوں کا احترام نہیں کریں گی تو اعتماد کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔ اسی طرح پارلیمان کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات دور کرنے کا بنیادی فورم بنایا جانا چاہیے۔ انتخابی اصلاحات، معاشی پالیسی، صوبائی خودمختاری، دہشت گردی، قومی سلامتی اور اداروں کے آئینی کردار جیسے معاملات پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو مشاورت اور اتفاقِ رائے کا حصہ بننا چاہیے۔ پارلیمان محض قانون سازی اور تقاریر کا فورم نہیں بلکہ قومی مفاہمت اور مشترکہ فیصلوں کا ادارہ بھی ہے۔

پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام شہریوں کو منصفانہ قانونی عمل، شفاف سماعت اور بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہو۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر قانون کا یکساں اطلاق ہونا چاہیے اور کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اسی طرح سیاسی احتجاج بھی آئین اور قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ایسے قومی سیاسی چارٹر پر اتفاق کرنا چاہیے جس میں جمہوری تسلسل، آزادانہ اور شفاف انتخابات، معاشی استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی، صوبائی خودمختاری، انسانی حقوق اور پارلیمانی بالادستی کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

پاکستان کو آج کسی ایک سیاسی جماعت کی مکمل فتح یا کسی دوسری جماعت کی مکمل شکست کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک ایسے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے جو ملک کو سیاسی انتشار سے نکال کر معاشی ترقی، امن اور استحکام کی طرف لے جائے۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، دہشت گردی، تعلیمی پسماندگی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ جیسے مسائل کسی ایک حکومت یا جماعت کے نہیں بلکہ پوری قوم کے مشترکہ مسائل ہیں۔ ان چیلنجز کا مقابلہ سیاسی تقسیم کے ذریعے نہیں بلکہ اجتماعی دانش، مشترکہ حکمتِ عملی اور قومی اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

صلحِ حدیبیہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہر بظاہر نقصان درحقیقت نقصان نہیں ہوتا اور ہر فوری کامیابی طویل مدتی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ حقیقی قیادت طاقت کے اظہار، سیاسی مخالفین کو دبانے یا اپنی برتری ثابت کرنے سے نہیں بلکہ حکمت، برداشت، انصاف، مذاکرات اور دوراندیشی سے پہچانی جاتی ہے۔ قومیں اس وقت مضبوط نہیں ہوتیں جب ان کے سیاسی مخالفین خاموش ہو جائیں، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب اختلافات کے باوجود ان کی قیادت قومی مفاد کے لیے ایک میز پر بیٹھنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔

پاکستان کی بقا، ترقی اور جمہوری استحکام کا راستہ سیاسی تصادم میں نہیں بلکہ قومی مفاہمت، آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ آج ہماری سیاسی قیادت کو صلحِ حدیبیہ سے یہی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹنا دراصل قوم کو کئی قدم آگے لے جانے کی حکمتِ عملی ہوتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp