وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سیاسی گروپ بندی سے متعلق مختلف باتیں اور دعوے سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن ان میں عملی طور پر حقیقت کم اور افواہ سازی زیادہ ہوتی ہے۔ کسی شخص کا نام لے کر الزام لگانے کے لیے ٹھوس ثبوت ہونا ضروری ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے جو بات کی، وہ ان کے لیے نامناسب تھی۔ اکثر لوگ کسی معاملے کے بارے میں دعوے کرتے ہیں کہ فلاں کام ہو رہا ہے، لیکن ان کے پاس اس کے ثبوت موجود نہیں ہوتے۔
انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ جب لوگ اس نوعیت کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے پیچھے بعض خواہشات اور منصوبے ہوتے ہیں۔
رانا ثنااللہ کے مطابق انہوں نے خواجہ آصف سے پوچھا کہ کیا اس حوالے سے کوئی عملی کوشش بھی ہو رہی ہے؟ جس پر خواجہ آصف نے جواب دیا کہ خواہشات تو ہوتی ہیں، تاہم کوئی ان پر عمل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے یا نہیں، یہ الگ معاملہ ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایسی باتوں میں عملی سرگرمیوں کے مقابلے میں افواہ سازی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی گروپ بنانے والے کا نام لے کر بات کریں تو یہ بھی ویسی ہی بات ہوگی جیسی چوہدری سالک حسین نے کی۔
انہوں نے چوہدری سالک حسین کی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسی بات کی جیسے الماری تو بھری ہوئی ہے، لیکن ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی شخص خود سامنے آکر کسی معاملے پر بات نہ کرے، اس وقت تک کسی کا نام نہیں لیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں سینہ گزٹ، افواہ سازی اور پروپیگنڈا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ ہو رہا ہے اور کبھی کسی دوسرے معاملے سے متعلق دعوے کیے جاتے ہیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا کی گفتگو سے متعلق سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ فیصل واوڈا بھی مختلف معاملات پر بات کرتے ہیں، لیکن ان کے پاس ان دعوؤں کے ثبوت نہیں ہوتے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ بعض اوقات فیصل واوڈا کی باتوں کا کوئی حصہ یا ان سے ملتی جلتی صورتحال بعد میں سامنے آ جاتی ہے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق اس نوعیت کی باتیں کہیں نہ کہیں سے چل رہی ہوتی ہیں اور بعض اوقات ان میں سے کوئی بات ثابت بھی ہو جاتی ہے۔











