ایلون مسک نے زمین سے باہر ذہین تہذیبوں کے کوئی ثبوت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ انسانیت نے ابھی تک دوسری قابل تہذیبوں کے آثار کیوں نہیں دیکھے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا خلائی مخلوق اور پراسرار اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے کا وعدہ
اسپیس ایکس کے سربراہ اور ہزاروں اسٹار لنک سیٹلائٹس چلانے والے 55 سالہ مسک نے ہمیشہ کہا ہے کہ انہیں کسی غیر زمینی جہاز یا سرگرمی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
ان کی ایک حالیہ پوسٹ نے فرمی پیراڈاکس کو دوبارہ زندہ کر دیا جس میں پوچھا گیا ہے کہ ایک کہکشاں میں جو تیزی سے آباد ہو سکتی ہے وہاں اعلیٰ تہذیبیں کیوں غائب نظر آتی ہیں۔
ایلون مسک نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے کہ ہم ابھی تک ایلینز کے کوئی آثار نہیں دیکھ پائے‘۔
مزید پڑھیے: پینٹاگون نے 80 برس پرانے راز افشا کردیے، اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ فائلیں بالاخر جاری
اس پوسٹ پر صارفین کے دلچسپ ردعمل سامنے آئے۔ ایک نے لکھا کہ ’ایلون، آپ کو پریشانی کیسے ہو سکتی ہے جب آپ سچ اور ریاضی جانتے ہیں؟ فاصلے اتنے زیادہ ہیں کہ ہم شاید کبھی نہ مل سکیں‘۔
1977-08-15. 22:16 EDT.
6EQUJ5. Wow!The First Light Ever Spoken pic.twitter.com/9sYIcyow7D
— tetsuo (@tetsuoai) November 5, 2026
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’طبیعیات کے قوانین توڑنا مشکل ہے گو ایلینز موجود ہیں لیکن جب تک وہ یہاں پہنچیں ہم شاید ختم ہو چکے ہوں یا وہ پہلے ہی یہاں ہیں اور ہم انہیں دیکھ نہیں پا رہے‘۔
مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر
صارف لکھتے ہیں کہ ’آپ اس سے دوبارہ چیک کر لیں جس کو آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں، ایلینز نہیں بلکہ غیر انسانی ذہانت‘۔











