امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بدترین شکست پر ٹرمپ ناراض، اعلیٰ حکومتی عہدیداروں میں مزید تبدیلیوں کا عندیہ دے دیا۔ سخت گیر امیگریشن پالیسی کے معمار اسٹیفن ملر کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت کھونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے چیف آف اسٹاف سوسی وائلز کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جبکہ ان کی جگہ طویل عرصے سے ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور سخت گیر امیگریشن پالیسی کے معمار اسٹیفن ملر کو نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران جنگ پر تنقید اور مواخذے کی دھمکیاں، امریکی وزیر دفاع کا عہدہ نہ چھوڑنے کا اعلان
یہ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں اعلیٰ سطح پر پہلی بڑی انتظامی تبدیلی ہے۔ سوسی وائلز پیر سے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوں گی اور ٹرمپ کی سیاسی ٹیم میں ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق انتخابی نتائج پر ٹرمپ کی ناراضی مسلسل بڑھ رہی تھی اور وہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ذمہ دار اپنی سیاسی ٹیم کی حکمت عملی کو قرار دے رہے تھے۔
انتخابی نتائج کے بعد وائٹ ہاؤس میں اختلافات اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ ٹرمپ نے مزید عہدیداروں کو برطرف کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی کابینہ میں بھی چند تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے سوسی وائلز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہترین کام کیا، تاہم ان کی رخصتی کی وجہ انتخابی شکست نہیں بلکہ تبدیلی کا وقت ہے۔
اسٹیفن ملر اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں نائب چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور ٹرمپ کی پہلی صدارتی مہم 2015 سے ان کے ساتھ ہیں۔ انہیں ٹرمپ کی متنازع امیگریشن پالیسیوں کا مرکزی معمار سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے داخلی پالیسی کے متعدد شعبوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور انتظامیہ کے اختیارات میں توسیع کی حمایت کی۔ ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے سخت گیر امیگریشن پالیسی جاری رکھنے اور اپنے سیاسی مؤقف پر مزید مضبوطی سے قائم رہنے کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی وسط مدتی انتخابات ختم، 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹس میں نئی صف بندی شروع
ڈیموکریٹک رہنما رابرٹ گارسیا نے بھی اعلان کیا ہے کہ کانگریس میں ملر کو خصوصی نگرانی اور ممکنہ تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سوسی وائلز وائٹ ہاؤس کی پہلی خاتون چیف آف اسٹاف تھیں اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کی سربراہ بھی رہ چکی تھیں۔ انہوں نے حال ہی میں چھاتی کے سرطان کا علاج مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت میں 4 چیف آف اسٹاف تبدیل ہوئے تھے، تاہم وائلز ان سب سے زیادہ عرصے تک اس عہدے پر فائز رہیں۔
ان کی سبکدوشی ٹرمپ انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز خواتین کی رخصتی کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے، کیونکہ اس سے قبل اٹارنی جنرل، وزیر محنت اور وزیر داخلہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی خواتین بھی عہدوں سے الگ ہو چکی ہیں۔











