پاکستانی اداکارہ اور میزبان سعدیہ امام نے لڑکیوں کی جانب سے حقیقی زندگی میں ڈرامے کے کردار ’ابوبکر‘ جیسے شریکِ حیات کی خواہش پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لڑکیاں اپنی زندگی میں ابوبکر جیسا شخص چاہتی ہیں تو مستقبل کی ماؤں کو بھی اپنے بیٹوں کی ایسی ہی تربیت کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:’بے شک اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے‘،’درِ نجات‘ میں زریاب کے کردار میں تبدیلی پر سوشل میڈیا پر تبصرے
سعدیہ امام نے نجی ٹیلیویژن کے مارننگ شو میں شرکت کی، اور اس دوران میں گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ آج کل لڑکیوں میں ابوبکر جیسا شخص پانے کا رجحان خاصا مقبول ہوگیا ہے اور وہ اکثر سوال کرتی ہیں کہ حقیقی زندگی میں ابوبکر جیسا شخص کیوں نہیں ملتا؟
سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ ابوبکر جیسا بننے کے لیے مردوں کی ایسی ہی تربیت اور پرورش ضروری ہے۔ مستقبل کی ماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں اپنے بیٹوں کی اچھی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ ہم سب کو بچوں کی پرورش کو اہمیت دینا ہوگی تاکہ آنے والی نسل کی لڑکیوں کو بھی اپنی زندگی میں ابوبکر جیسے اچھے شریکِ حیات مل سکیں۔

پروگرام کی میزبان ندا یاسر نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ڈراما ’درِ نجات‘ تو بہت دیر سے بنایا گیا، اسے بہت پہلے آنا چاہیے تھا۔
واضح رہے کہ سعدیہ امام پاکستان کی معروف ٹی وی اداکاراؤں اور میزبانوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں ’سنگھار‘، ’پہلی بارش‘، ’رانی بیٹی‘، ’صرف ایک بار‘، ’اجازت‘، ’بلقیس کاؤر‘ اور ’میرا نصیب‘ شامل ہیں۔ اداکارہ نے 2012 میں شادی کی اور بعد ازاں اپنے شوہر عدنان کے ساتھ جرمنی منتقل ہوگئیں۔ ان کی ایک بیٹی میروب بھی ہے۔











