’نیٹ فلکس‘ سے 20 کروڑ کی بینک ڈکیتی تک، لسبیلہ یونیورسٹی کے طلبہ کی واردات کے حیران کن انکشافات، 3 گرفتار

ہفتہ 7 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں نیشنل بینک سے 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ڈکیتی کے معاملے میں ڈرامائی انکشافات سامنے آئے ہیں۔

پولیس کے مطابق واردات میں لسبیلہ یونیورسٹی کے موجودہ اور سابق طلبہ سمیت 5 نوجوان مبینہ طور پر ملوث تھے، جنہوں نے نیٹ فلکس کی مشہور کرائم سیریز ’منی ہائسٹ‘ سے متاثر ہو کر ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی۔ پولیس نے مرکزی ملزم سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ 2 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

پولیس کے مطابق ڈکیتی کی واردات فروری 2025 میں ضلع لسبیلہ کے شہر اوتھل میں نیشنل بینک کی ایک برانچ میں ہوئی تھی، جہاں مسلح ملزمان نے سیکیورٹی اہلکاروں کا روپ دھار کر بینک سے تقریباً 20 کروڑ 20 لاکھ روپے لوٹ لیے تھے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ واردات کا مبینہ مرکزی ملزم زوہیب نیٹ فلکس کی مشہور کرائم سیریز ’منی ہائسٹ‘ کے کردار ’دی پروفیسر‘ سے متاثر تھا اور اسی کردار سے متاثر ہو کر اس نے ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ڈکیتی کے لیے جعلی ایف سی وردیوں اور گاڑی کا استعمال

پولیس کے مطابق ملزمان نے واردات کے لیے سرخ رنگ کی ٹویوٹا سرف گاڑی خریدی، جس کا رنگ تبدیل کر کے سیاہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جعلی وردیاں بھی بیرون ملک سے آن لائن منگوائی گئیں۔

واردات کے بعد پولیس نے ملزمان کا تعاقب کیا تو تقریباً 15 کلومیٹر دور مسلح ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار یار محمد زخمی ہو گئے اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی۔ ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے اپنی گاڑی کو بھی آگ لگا دی تھی۔

مرکزی ملزم کے اکاؤنٹ میں 17 کروڑ روپے سے زیادہ کی ٹرانزیکشنز

پولیس کے مطابق تحقیقات میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مرکزی ملزم زوہیب کے بینک اکاؤنٹ میں ڈکیتی کے بعد 17 کروڑ روپے سے زیادہ کی غیر معمولی ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا۔

تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ تقریباً 3 کروڑ روپے ایک مقامی کاروباری شخص کرشنا کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے تھے۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ ڈکیتی کی رقم کا ایک حصہ کاروباری سرگرمیوں اور قیمتی اثاثوں کی خریداری پر خرچ کیا گیا۔

3 ملزمان گرفتار، گاڑیاں، اسلحہ اور جعلی وردیاں برآمد

پولیس نے کارروائی کے دوران 2 ہونڈا سوک گاڑیاں، ایک کارگو رکشہ، ایک موٹر سائیکل، موبائل فونز، اسلحہ اور ایف سی کی جعلی وردیاں برآمد کی ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں زوہیب، غلام مرتضیٰ اور بلال اکرم شامل ہیں۔ زوہیب اور غلام مرتضیٰ لسبیلہ یونیورسٹی میں چوتھے سمسٹر کے طالب علم تھے جبکہ بلال اکرم نے 2025 میں بی بی اے کی ڈگری مکمل کی تھی۔

واردات میں مبینہ طور پر ملوث دیگر 2 ملزمان جواد اور حمید تاحال فرار ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کی عمریں 24 سے 26 سال کے درمیان ہیں اور ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلات سے ہے۔

تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے جبکہ لوٹی گئی رقم کی مکمل برآمدگی، مبینہ مالی معاونین اور دیگر سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

8000 سال قدیم مہر گڑھ تہذیب کو نئی زندگی، امریکی تعاون سے بلوچستان کے تاریخی عجائب گھر کی بحالی مکمل

پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ کا عالمی اعزاز، بیلاروس کے معروف فلمی میلے میں اسپیشل جیوری ایوارڈ جیت لیا

پاکستان ترکیہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، ترک سفیر و ماہرین کا بین الاقوامی ویبینار میں خطاب

نئی آٹو پالیسی منظور، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، 4 نئے کھلاڑی شامل،3  پلیئرز پہلی بار قسمت آزمائیں گے

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟