پاکستانی کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ پر کیا تحفظات ہیں؟

پیر 21 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان سنٹرل کنٹریکٹ سے متعلق تنازع 2 ماہ سے چل رہا ہے اور اب اس معاملے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف سری لنکا روانہ ہوگئے ہیں۔ جہاں وہ کھلاڑیوں سے ملاقات میں سینٹرل کنٹریکٹ پر تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کے بیشتر تحفظات کو کنٹریکٹ میں دور کر دیا گیا ہے جبکہ چند تحفظات پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کا سالانہ سنٹرل کنٹریکٹ کی معیاد 30 جون کو ختم ہوچکی ہے۔ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے ساتھ نیا معاہدہ تیار کر لیا تاہم اس معاہدے پر تاحال کسی کھلاڑی نے دستخط نہیں کیے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے نہ صرف معاوضے بڑھانے بلکہ دیگر شقوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن میں ڈیجیٹل رائٹس، غیر ملکی لیگز میں شرکت کے لیے این او سی، سپانسرز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت اور آئی سی سی سے ملنے والے معاضے میں شئیرنگ بڑھانا شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی نے اے کیٹگری میں شامل کھلاڑیوں کا معاوضہ تو بڑھا دیا ہے تاہم پاکستان سُپر لیگ کے علاوہ صرف ایک غیر ملکی لیگ میں شرکت کی اجازت دینے کی شرط رکھی ہے جس پر کھلاڑیوں کو شدید تحفظات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے اس معاملے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اے کیٹگری میں شامل کھلاڑیوں کو پی ایس ایل کے علاوہ 2 لیگز میں شرکت کی اجازت دی ہے جبکہ سنٹرل کنٹریکٹس نہ رکھنے والے کھلاڑی لا تعداد لیگز میں شرکت کر سکتے ہیں تاہم ان کھلاڑیوں کو پی سی بی سے این او سی درکار ہوگا۔

ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں نے پی سی بی سے ڈیجیٹل ریونیو سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی شیئرز کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں نے پی سی بی سپانسرز کے علاوہ حریف کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کی ممانعت پر بھی اعتراض کیا ہے اور سپانسرز سے حاصل ہونے والی آمدن میں حصہ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی کے آفیشل سپانسرز کے علاوہ کسی بھی کھلاڑی کو حریف کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں۔ جیسے کہ ایک مشروب بنانے والی کمپنی جو پی سی بی کی آفیشل سپانسر ہے کھلاڑی کسی دوسری مشروب بنانے والی کمپنی کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹ کی بیشتر شقوں میں ترمیم کردی ہے تاہم آئی سی سی سے حاصل ہونے والی آمدنی اور سپانسرز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت کے معاملے پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پی سی بی اور کھلاڑیوں کے درمیان ایشیا کپ کے آغاز سے قبل معاملہ حل ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘