پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، پہلی مرتبہ پیٹرول نے ٹرپل سنچری مکمل کرلی

جمعہ 1 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پاکستان کی نگراں حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دوسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 14روپے 91 پیسے  اور ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے 44 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق آج شب 12 بجے کے بعد سے ہو گیا ہے۔

نگراں وزیراعظم انور الحق کاکڑ کی طرف سے منظوری کے بعد جمعرات کو رات گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر14روپے 91 پیسے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے 44 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا  ہے۔

اس طرح پیٹرول کی فی لیٹر قمیت 290.45 روپے سے بڑھ کر 305.36 روپے ہو گئی ہے جب کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 293.4 روپے سے بڑھ کر 311.84 روپے ہو گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں  میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اضافہ شدہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم ستمبر سے ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘