آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: اسپیکر سندھ اسمبلی کی ضمانت منظور

پیر 4 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی ضمانت منظور کرلی۔

عدالت نے آغا سراج درانی کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے 2 ستمبر کو آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے آغا سراج درانی عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ محکمہ داخلہ سندھ نے آغا سراج درانی کے گھر کو سب جیل قرار دے رکھا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد، ملازمین اور فرنٹ مین کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثے بنائے ہیں۔ ان کے خلاف دائر ریفرنس

   میں رقم 500 ملین روپے سے زائد ہے۔

جولائی 2018 میں نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات پر انکوائری کی منظوری دی تھی۔ احتساب عدالت نےانہیں 12 اپریل 2019 کوجوڈئشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ 13 دسمبر 2019 کو ضمانت منظور ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ آغا سراج درانی کو دوبارہ 6 دسمبر 2021 کو جیل لایا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ، عوام کو جدید سہولتیں فراہم کریں گے، شزا فاطمہ

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں