آپ پروسیکیوٹر بننے کے اہل ہی نہیں؛ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کس کی سرزنش کی؟

جمعہ 22 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت  کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی سرزنش کردی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ میں ہونیوالے قتل میں نامزد ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔

تفتیشی افسر کے روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار کو بلایا نہیں تو یہ چھلانگ لگا کر آگے کیوں آ گئے، کیا یہ کوئی مجسٹریٹ کی عدالت ہے؟ وہاں بھی ان کا یہی کنڈکٹ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پروسیکیوٹر بننے کے اہل ہی نہیں ہیں، آپ کو تو ہم سمجھا رہے ہیں لیکن آپ پولیس اہلکار کیخلاف شکایت کرینگے۔

عدالت نے مانسہرہ میں قتل کے ملزم کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی ۔ملزم کی درخواست ضمانت کے حوالے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی بولے؛ مقدمہ میں ایک ہی گواہ ہے مناسب ہوگا ٹرائل جلد مکمل کروا لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘