کرکٹر حسن علی نے دورہ آسٹریلیا کے دوران عثمان خواجہ سےمحتاط رہنے کا مشورہ کیوں دیا؟

جمعہ 1 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے کہا ہے عثمان خواجہ کو اردو آتی ہے، وہ ہماری ٹیم کی پلاننگ سمجھ کر اپنی ٹیم کو بتاتے ہیں۔

حسن علی نے 14 دسمبر سے شروع ہونے والی پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان بینود قادر سیریز کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں عثمان خواجہ سے محتاط رہیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عثمان خواجہ کراچی ٹیسٹ میں ہماری آن فیلڈ پلاننگ اپنی ٹیم کو بتاتے رہے۔ وہ اردو جانتے ہیں، لہٰذا ان کے سامنے کوئی حکمت عملی ڈسکس نہیں کریں گے، ہمیں اگر کوئی پلان بنانا ہوا تو ہم اُن سے دور جا کر پلان بنائیں گے۔

فاسٹ بولر نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ٹیموں کے لیے دورۂ آسٹریلیا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ آسٹریلیا کے موجودہ اسکواڈ میں سب سے بہترین بولر آسٹریلیوی کپتان پیٹ کمنز ہیں، آسٹریلوی کپتان تینوں فارمیٹ کے خطرناک بولر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی بھی نئی اور پرانی گیند کرنے کا فَن جانتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم