خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا، سپریم کورٹ

بدھ 6 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حق مہر سے متعلق سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ دیدیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔ 6 سال تک حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر پر شوہر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا ہوگا۔ حق مہر شرعی تقاضا ہے جس کا تحفظ ملکی قوانین میں بھی موجود ہے۔

حق مہر سے متعلق سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے لکھے گئے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔ 6 سال تک حق مہر کی ادائیگی میں تاخیر پر شوہر کو ایک لاکھ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ حق مہر شرعی تقاضا ہے جس کا تحفظ ملکی قوانین میں بھی موجود ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حق مہر کی ادائیگی کا وقت نکاح نامہ میں مقرر نہ ہو تو بیوی کسی بھی وقت تقاضا کر سکتی ہے۔ موجودہ کیس میں بیوی کو حق مہر کے حصول کے لیے مقدمہ دائر کرنا پڑا جو 6 سال بعد سپریم کورٹ پہنچا۔ عدالتوں نے غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے پر شوہر کو جرمانہ عائد نہیں کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیر ضروری اپیلوں پر جرمانہ کیا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے سے عدالتی نظام مفلوج ہوتا جا رہا ہے۔ بلاوجہ کی مقدمہ بازی ختم کرنے کے لیے عدالتوں کو جرمانہ کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہیے۔ عدالت نے خالد پرویز کی اہلیہ ثمینہ کو حق مہر کی ادائیگی کے حکم کیخلاف اپیل خارج کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے کینیڈا میں نیا امیگریشن پروگرام متعارف

ایمازون کا بھارت میں 2030 تک 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

ٹیم سے نکالنے پر کھلاڑیوں کا ہیڈ کوچ پر حملہ، 20 ٹانکے لگانے پڑے

اڈیالہ میں طبی معائنہ، عمران خان کے پاؤں میں موہکا تشخیص

اقوامِ متحدہ خاموش کیوں؟ کشمیریوں کا عالمی انسانی حقوق کے دن پر سوال

ویڈیو

عوام کی آواز: آج کے معاشرے میں ہمارے کیا حقوق ہیں؟

لاہور کا نیلا گنبد تجاوزات کے نرغے سے آزاد، عظمت رفتہ کی بازیابی کے امکانات روشن

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کرنے کی تیاری، نئی منزل کونسی ہوگی؟

کالم / تجزیہ

سیٹھ ، سیاسی کارکن اور یوتھ کو ساتھ لیں اور میلہ لگائیں

تہذیبی کشمکش اور ہمارا لوکل لبرل

جج آصف کا بیٹا بھی جج بنے گا؟