چمن دھرنے کے 50 روز مکمل، کاروبار سمیت معمولات زندگی کس طرح متاثر ہوئے؟

جمعہ 8 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگران حکومت نے ملک بھر سے افغان تارکین وطن کے انخلا کا فیصلہ کیا، جس کے لیے رضا کارانہ طور پر افغان باشندوں کو وطن واپسی کے لیے یکم نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، تاہم حکومتی فیصلے پر پاک افغان سرحدی شہر چمن میں لغڑی (دیہاڑی دار) اتحاد کی جانب 21 اکتوبر کو پاسپورٹ پر آمد و رفت کی شرط کو ختم کرنے کے مطالبے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جو دھرنے کی شکل اختیار کرگیا۔

چمن کے رہائشیوں کا شدید استحصال ہو رہا ہے

دھرنے کے منتظم اور لغڑی اتحاد کے جنرل سیکرٹری حوصلہ خان نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے افغانستان اور پاکستان میں آمد رفت کے لیے پاسپورٹ کو لازمی قرار دیا جس کی وجہ سے چمن کے رہائشیوں کا شدید استحصال ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چمن کے متعدد افراد کی رشتے داریاں، کاروبار سمیت آبا و اجداد کی قبریں بھی افغانستان میں ہیں۔ اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں لغڑی(دیہاڑی دار مزدور) کام کاج کے لیے چمن کا رخ کرتے تھے۔ تاہم حکومتی پالیسی کے باعث اب ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔

قندھار سے کوئٹہ پاسپورٹ کی شرط ختم کی جائے

حوصلہ خان نے بتایا کہ حکومت سے پاسپورٹ ختم کرنے کے مطالبے پر کئی مذاکرات ہوئے جو بے نتیجہ رہے، کیونکہ حکومت ہر صورت میں پاسپورٹ کی شرط نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی فیصلے کی وجہ اسپن بولدک اور چمن کے باسیوں کی اپنے رشتے داروں سے ملاقات نہیں پا رہی۔

حوصلہ خان کا کہنا تھا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ قندھار سے لیکر کوئٹہ تک پاسپورٹ کی شرط کو ختم کرکے واپس تذکرے کو بحال کیا جائے۔

چمن میں معمولات زندگی بھی متاثر

لغڑی اتحاد کے 50 روز سے جاری احتجاجی دھرنے کے باعث چمن میں معمولات زندگی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ چمن کے مقامی تاجر امان اللہ نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھرنے کے باعث صوبے میں تجارتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ چمن کے باشندے صرف اس ایک مسئلے کے حل کے لیے روزانہ احتجاج میں شرکت کرتے ہیں، ایسے میں درآمدت و برآمدات سمیت ہر قسم کا کاربار ویران ہو گیا ہے۔

تاجر امان اللہ کے مطابق ماضی میں جو تاجر روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 30 ہزار روپے کما لیتا تھا اب وہ ہزار سے 2 ہزار روپے ہی گھر لے کر جاتا ہے، کیونکہ ماضی میں افراد کی ایک کثیر تعداد افغانستان سے آیا کرتی تھی جو روزانہ کی بنیاد پر بنیادی ضروریات سمیت دیگر اشیا کی خرید و فروخت کرتے تھے، ایسے میں کاروبار بہتر تھا تاہم اب ویسی صورت حال نہیں ہے، جس کی وجہ سے مشکلات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں۔ دھرنے کے سبب صحت اور تعلیم سمیت کئی شعبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ہر شعبہ ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے چمن کے مقامی صحافی ستار خوندئی نے بتایا کہ دھرنے کے باعث چمن میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔کاروبار، تعلیم، صحت سمیت ہر شعبہ ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ جبکہ شہری بھی ایک طویل عرصے سے اپنے سرحد پار رشتے داروں سے نہیں مل پائے۔

صحافی ستار خوندئی  کے مطابق دھرنے کو ختم کرنے کے لیے کئی حکومتی وفود چمن پہنچے تاہم دھرنے کے شرکا اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ تاہم حکومت سے دھرنا ختم کرنے سے متعلق سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب نگران صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی بارہا اپنے بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ پاسپورٹ رجیم پر کوئی سمجھتا نہیں کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا