10 دسمبر: سوار محمد حسین شہید نشان حیدر کا 52واں یوم شہادت

اتوار 10 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک مسلح افواج کے سربراہان نے سوار محمد حسین شہید، نشان حیدر کو ان کے 52ویں یوم شہادت کے موقع پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سوار محمد حسین کا یوم شہادت مادر وطن کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کی غیر معمولی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ آئیے ہم ان ہیروز کو یاد رکھیں جنہوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر فخر ہے۔

1971ء کی جنگ کے دوران ظفروال شکر گڑھ سیکٹر میں سوار محمد حسین شہید کے بے خوف اقدامات اور ناقابل تسخیر جرات نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ انہوں نے تنِ تنہا 16 بھارتی ٹینکوں کو تباہ کیا تھا۔

سوار محمد حسین شہید قوم کا بہادر اور قابل فخر بیٹا

سوار محمد حسین 18 جنوری 1949ء کو گوجرخان میں پیدا ہوئے۔ محمد حسین اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، خودداری، دلیری، محنت، غیرت اور سب سے بڑھ کر وطن سے محبت انہیں وراثت میں ملی تھی۔ سوار محمد حسین اپنی جان وطن پر قربان کرنے اور دشمن سے لڑنے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ یوں ستمبر 1966ء میں محمد حسین بحیثیت سوار (ڈرائیور) پاک فوج میں شامل ہوئے تھے۔ سوار محمد حسین نے ڈرائیور ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا کیونکہ انہیں گوارا نہ تھا کہ وہ میدان جنگ سے دور محفوظ جگہ پر بیٹھ کر محض ڈرائیور کی ڈیوٹی انجام دیں۔

ارض پاک کے اس دلیر سپوت نے کئی مشکل مواقع پر تن تنہا دشمن کے ٹھکانوں اور پوزیشن کا سراغ لگایا بلکہ رضا کارانہ طور پر بار بار موت سے کھیلتے ہوئے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے میں لازوال کردار ادا کیا۔ سوار محمد حسین نے اپنی خواہشات جذبات اور سب رشتوں کو ارض پاک کی محبت پر قربان کردیا۔

3 دسمبر 1971ء کو جب سوار محمد حسین شکرگڑھ کے علاقے میں تعینات تھے جبکہ پاک فوج کی ایک ٹینک رجمنٹ کا مقابلہ بھارت کی 8 ٹینک رجمنٹس سے تھا۔ محاذ جنگ میں سوار محمد حسین کی ذمہ داری یہ تھی کہ ٹینک رجمنٹ کے ساتھ موجود رائفل ٹروپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جائے۔

5 دسمبر کو سوار محمد حسین اپنے کمانڈنگ آفیسر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ’سر مجھے اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسلحہ فراہمی کا فریضہ اور لڑنے کی اجازت دی جائے کیونکہ میرے لیے یہ ناقابلِ برداشت ہے کہ میں میدان جنگ سے دور محفوظ جگہ پر خاموشی سے اپنی گاڑی میں بیٹھا رہوں۔‘

7 دسمبر کو دشمن کی گدر پور پر قبضے کی اطلاع ملی، فائرنگ کی آوازیں آنے پر ٹروپ لیڈر صورتحال کا جائزہ لینے روانہ ہوئے۔ ٹروپ لیڈر کو گدر پور پہنچنے پر حیران کن منظر دیکھنے کو ملا، گدر پور سوار محمد حسین کے قبضے میں تھا اور دشمن کی نفری کو چاروں جوان بھگا چکے تھے۔ گدر پور کے معرکے میں سوار محمد حسین کی بروقت اطلاعات نے دشمن کا بیشمار اسلحہ اور درجنوں ٹینکس راکھ کا ڈھیر بنا دیے۔

سرکاری بیان کے مطابق صرف 16 ٹینکس سوار محمد حسین نے تباہ کئے۔ 8 دسمبر کو سوار محمد حسین نے اپنے ساتھی کے ہمراہ ہرڑ کلاں گاؤں میں دشمن کے ممکنہ حملے کو بھانپتے ہوئے دشمن کے توپ خانوں پر فائر کروائے اور دشمن کو اس مقام سے منتشر کر دیا۔ سوار محمد حسین وقتاً فوقتاً ہر مورچے میں جاتے اور نعرے لگا کر ساتھی جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے۔

یہ سوار محمد حسین کا کارنامہ ہی تھا کہ دشمن ٹینک آگے بڑھنے کی بجائے ایک دوسرے کے پیچھے تباہ ہو رہے تھے۔ افسران سوار محمد حسین کی بہادری، بے خوفی، دلیری اور کارناموں سے حد درجہ متاثر تھے اور گزارش کر چکے تھے کہ یہ جوان ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز کا مستحق ہے۔

10 دسمبر 1971: سوار محمد حسین وطن عزیز کے دفاع میں مصروف تھے کہ ایک چھپے ہوئے بھارتی ٹینک سے مشین گن کا برسٹ سوار محمد حسین کے سینے سے پار ہو گیا۔ ساتھیوں کے قریب آنے پر سوار محمد حسین نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’دشمن کہاں ہے؟ آگے تو نہیں آرہا؟‘ ان الفاظ کے ساتھ یہ دلیر جوان مسکراتے ہوئے وطن کی آن پر قربان ہوگیا۔ سوار محمد حسین شہید کو بعد از شہادت ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ