آسٹریلیا کی نئی امیگریشن پالیسی، پاکستانیوں کے لیے بری خبر کیا ہے؟

ہفتہ 16 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا اس وقت برطانیہ، چین اور اب ایشیا کے طلبا کی بھی توجہ کا مرکز بن رہا ہے، لیکن آسٹریلوی حکومت کی جانب سے آسٹریلیا کی 10 سالہ امیگریشن پالیسی کی رونمائی پر کہا گیا کہ آسٹریلین امیگریشن نظام میں بہتری لانے کے لیے ملک میں آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد نصف کر دی جائے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار غیرملکی طلباء ہیں، جون 2023 تک 5 لاکھ 10 ہزار افراد آسٹریلیا میں آکر آباد ہوئے ہیں اب اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے جون 2025 تک سالانہ انٹیک ڈھائی لاکھ تک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آسڑیلیا میں تارکین وطن کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ہاؤسنگ اور انفراسٹرکچر کے مسائل میں بے حد اضافہ ہوا ہے پھر بھی ملک میں ہنر مند افراد کی بہت کمی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نئے منصوبے کے تحت بین الاقوامی طلبا اور کم ہنر والے ورکرز کے ویزا قواعد کو مزید سخت کیا جائے گا۔

امیگریشن پالیسی کے تحت عارضی سکلز شارٹیج ویزا کی جگہ سکلز ان ڈیمانڈ ویزا کا اجرا کیا جائے گا۔ اس 4 سال پر محیط ویزا کے لیے تین مختلف راستے ہوں گے۔ ایک راستہ اسپیشلسٹ سکلز رکھنے والے افراد کے لیے ہوگا۔ اس کے ذریعے ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں سے انتہائی باصلاحیت افراد کو آسٹریلیا بلانے کی کوشش کی جائے گی۔

 آسٹریلیا کی 10 سالہ امیگریشن پالیسی کی رونمائی کے چند گھنٹوں کے بعد سے ہی لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ اس پالیسی سے ان کے لیے کیا مشکلات ہو سکتی ہیں یا پھر یہ پالیسی پاکستانیوں کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

آسٹریلیا میں گزشتہ 10 سال سے مقیم پاکستانی رہائشی دانش علی آسٹریلیا میں آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہیں۔ دانش آسٹریلیا کے مستقل رہائشی ہیں جنہوں نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلوی امیگریشن کی وجہ سے سب طلبا متاثر ہوں گے۔ کیونکہ ان کی جانب سے اسٹوڈنٹ ویزے کم ہی دیے جائیں گے۔ اور جو لوگ اسٹوڈنٹ ویزہ پر یہاں آکر عارضی ویزہ لیتے ہیں۔ اب اس کی سکروٹنی بھی شروع کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ آسٹریلیا کے وہ چھوٹے موٹے کالجز جو گلی محلوں میں کھلے ہوئے ہیں، جن کا کوئی معیار نہیں ہے ان پر بھی بہت سختی آ جائے گی۔ جبکہ جو سکلڈ ورکر ہے اس پر آسٹریلیا کی نئی امیگریشن پالیسی کا خاص اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن وہ طلبا جو عارضی رہائش کے بعد مستقل رہائش کی طرف بڑھتے ہیں ان کے لیے اب آسان نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے فضل ٹریول ایجنسی کے مالک چوہدری فضل نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ایک بڑی تعداد میں لوگ گزشتہ چند عرصے سے کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب رخ کر رہے ہیں۔ کیونکہ آسٹریلیا کی پالیسی باقی ممالک کی طرح اتنی سخت نہیں تھی۔

’اور جہاں تک نئی امیگریشن پالیسی کی بات ہے تو اس کے مطابق اگر آسٹریلیا غیر ملکیوں کی تعداد کو نصف کرتا ہے تو یقیناً ہر ملک سے بڑی تعداد میں آسٹریلیا جانے کے خواہشمند افراد متاثر ہونگے۔ کیونکہ اگر پاکستان سے پہلے 50 ہزار لوگ بآسانی ویزا حاصل کر لیا کرتے تھے اب وہ تعداد کم ہو کر 30 ہزار تک آجائے گی۔‘

مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک سکلز ان ڈیمانڈ ویزا کے اجرا کی بات ہے تو پاکستان سے میرے تجربے کے مطابق ان سکلڈ یا عارضی سکلز شارٹیج ویزا پر بہت کم لوگ ہی جایا کرتے تھے۔ مگر میرے علم کے مطابق یہ پالیسی ہمارے ہمسائے ملک بھارت کو کافی متاثر کر سکتی ہے کیونکہ بھارت سے عارضی سکلز شارٹیج ویزا پر کافی لوگ جاتے ہیں۔

ان پراسس ویزا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹریول ایجنٹ فضل چوہدری نے بتایا کہ جیسے کہ اگر 10 ہزار لوگوں کے ویزے ان پراسس ہیں  چونکہ وہ تقریبا اپنا پہلا مرحلہ پورا کر چکے ہیں تو میرے خیال میں اگر وہ پالیسی کے مطابق 50 ہزار کے بجائے 30 ہزار افراد کو ویزے جاری کرتے ہیں تو اس میں 10 ہزار ان لوگوں کو شامل کر لیں گے جو پہلے سے اس پراسس میں ہیں تو ان کے لیے کوئی خاص مسائل پیدا نہیں ہونگے۔

امیگریشن پالیسی میں ’کور سکلز‘ یعنی بنیادی صلاحیتوں کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے، جس میں شعبوں کی فہرست کو آسٹریلوی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے اعتبار سے تبدیل کیا جاتا رہے گا۔ لیکن اس راستے سے ورک فورس کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہیلتھ کیئر جیسے شعبے جہاں ورکرز کی کمی ہے، اس حوالے سے بھی تفصیلات زیر غور ہیں۔

ان نئے قوانین میں بین الاقوامی طلبا کے لیے انگریزی زبان کے ٹیسٹ یعنی آئلٹس کے حوالے سے سخت معیار رکھے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا کے گریجوئیٹ ویزا کے لیے آئیلٹس 6 بینڈ کی ضرورت ہوتی تھی اب وہ بڑھا کر 6.5 کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے آئیلٹس کی شرط 5.5 سے بڑھا کر 6 کر دی گئی ہے۔

حمزہ فاروق آسٹریلیا جانے کے خواہشمند ہیں اور وہ گزشتہ ایک برس سے آسٹریلین یونیورسٹیوں کے لیے اپلائی کرتے رہے ہیں۔ حمزہ نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے رواں ستمبر میں آئیلٹس پاس کیا تھا اور اس وقت آسٹریلیا کے لیے کم از کم 6.5 بینڈز درکار تھے، اور انہوں نے آسٹریلوی یونیورسٹیوں کی ڈیمانڈ کے مطابق 5.5 بینڈ اسکور حاصل بھی کر لیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اب جب اپلائی کرنے کا وقت آیا تو آسٹریلیا نے اپنی پالیسی میں کم از کم اسکور 6 بینڈز کر دیے ہیں، پاکستان میں اس وقت ائلٹس ٹیسٹ کی فیس تقریبا 55 ہزار روپے ہے، جو کہ ایک اچھی خاصی رقم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے آئیلٹس ٹیسٹ کو ایکسپائر ہونے میں پورے 2 سال ہیں، اور وہ خوش تھے کہ وہ ٹیسٹ پاس کر چکے ہیں، اور اب وہ جلد ہی آسٹریلیا کی کسی یونیورسٹی میں رجسٹر ہو جائیں گے، لیکن اب اس نئی پالیسی کے آنے سے ان کا آئیلٹس ٹیسٹ ضائع ہو جائے گا نہ صرف ٹیسٹ مگر ان کی محنت، پیسے اور وقت بھی، تاہم اب ان کو دوبارہ ٹیسٹ دینا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوٹیوبر آئی شو اسپیڈ کے دورۂ کینیا نے انٹرنیٹ اور نیروبی کی سڑکوں پر ہلچل کیوں مچا رکھی ہے؟

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 40 جے ایف-17 طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مذاکرات جاری، رائٹرز کی رپورٹ

کشمیر کی وادی شکسگام ہماری ہے، چین نے بھارت کی چھٹی کرادی

سیکیورٹی نے عامر خان کو اپنے ہی دفتر سے باہر کیوں نکال دیا؟

امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘