جرمنی نے اسٹوڈنٹ ویزا قوانین میں کیا اہم تبدیلیاں کی ہیں؟

بدھ 3 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی نے غیر ملکی طلبا کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا کے قوانین میں نرمی کردی ہے، طلبا تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ملازمت بھی کرسکیں گے۔

شینیگن ویزا انفو میں شائع رپورٹ کے مطابق جرمنی نے بین الاقوامی طلبا کے لیے ویزا قوانین میں نرمی کردی ہے، جرمنی کا نیا قانون غیر ملکی طلبا کو اپنی تعلیم کے دوران کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کا اطلاق رواں سال مارچ سے ہوگیا ہے۔

قوانین میں تبدیلی کا مقصد طلبا کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کو آسان بنانا اور ان کی مستقل رہائش کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، یہ اقدام جرمنی کے افرادی قوت کی شدید قلت کے باعث زیادہ سے زیادہ غیر ملکی ہنرمندوں کو بلانے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

جرمنی میں امیگریشن قوانین میں دوسرے مرحلے کی تبدیلیاں یکم مارچ سے نافذ کی گئیں ہیں، جرمنی نے امیگریشن قوانین میں پہلی تبدیلیاں نومبر 2023 میں نافذ کی تھیں۔ یہ تبدیلیاں ای یو بلیو کارڈ کے اجرا سے متعلق کی گئی تھیں۔

نئے قوانین کے تحت جرمنی میں کسی پروفیشنل ادارے یا یونیورسٹی سے ڈگری کے حامل اور 2 سالہ تجربہ رکھنے والے ہنرمند باآسانی جرمنی آسکیں گے، نئے قوانین کے مطابق اسٹوڈنٹ ویزا پر جرمنی جانے والے غیریورپی  طلبا کو 9ماہ پہلے جرمنی آنے اور ہر ہفتے 20گھنٹے تک کام کرنے کی اجازت ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں