آج کے دن 1986 میں جنرل ضیاء الحق نے دورہٴِ لاہور کے دوران نواز شریف کی اعلانیہ حمایت کا اعلان کرتے ہوئے پنجابی کا مشہور محاورہ بولا جو اگلے روز کے اخبارات میں شہ سرخیوں کی صورت شائع ہوا۔
سپیشل برانچ پنجاب کے اس وقت کے سربراہ سردار محمد چوہدری، جو بعد ازاں آئی جی پنجاب بھی رہے، نے اپنی خود نوشت “جہانِ حیات” میں اس سارے واقعے کا پسِ منظر لکھا ہے۔
ان کے مطابق جولائی 1986ء میں خبر سامنے آئی کہ “پنجاب کے وزیر بلدیات چوہدری پرویز الہی کی پیٹھ ٹھونکی جا رہی ہے کہ وہ نواز شریف کی جگہ لینے کے لیے میدان میں آجائیں۔۔۔ چوہدری پرویز الہی کو مسلم لیگ کے صدر جونیجو کے مرشد خاص پیر پگاڑا کی آشیر باد بھی حاصل تھی۔ میاں صاحب کے دیگر مخالفین اور جاگیر دار بھی وقت آنے پر پرویزالہی کی حمایت کے لیے تیار ہو گئے۔
سیاسی منظر واقعی بڑا بھیانک تھا۔ نواز شریف ایک معصوم فاختہ کی طرح لگتے تھے جس پر بھوکے باز اپنے تیز پنجوں کے ساتھ جھپٹنے کے لیے پر تول رہے تھے۔ میاں صاحب شروع میں یہ بات مانے کو تیار نہیں تھے کہ چوہدری پرویز الہی ان کے خلاف جوڑ توڑ میں شریک ہیں۔ وہ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے جوابی اقدامات کرنے لگے جن میں جنرل ضیاء کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی شامل تھے۔”
دوسری جانب جنرل ضیاء ایک انتہائی پراسرار کھیل کھیل رہے تھے۔ “وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو وزیر اعظم کا توڑ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے اور کھل کر اسی کی حمایت کرتے جو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔” لیکن نواز شریف کو جنرل ضیاء کے اس کھیل بارے کوئی علم نہیں تھا۔
سردار چوہدری کے مطابق مسئلہ کا واحد حل اعتماد کا ووٹ تھا وگرنہ ایم پی ایز کو پروپیگنڈا کے جوڑ توڑ سے گمراہ کیا جا سکتا تھا، چنانچہ انہوں نے نواز شریف سے بات کی کہ “260 کے ایوان میں ان کی پارٹی کے زیادہ سے زیادہ 18 ارکان ان کے خلاف ووٹ دیں گے اس لیے انہیں ڈرنے یا فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
وزیر اعلی نے 23 اکتوبر کو انتہائی جذباتی تقریر کے بعد اعتماد کا ووٹ مانگا۔ ایوان میں موجود مسلم لیگ کے جملہ اراکین اسمبلی نے، ماسوائے 5 کے بلند آواز اور پر جوش نعروں کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ یوں میاں صاحب نے ایوان کا اعتماد حاصل کر کے اپنے سیاسی مستقبل کو بچایا۔
جنرل ضیا اعتماد کے ووٹ کی کارروائی کے ایک ہفتہ بعد لاہور کے دورہ پر آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر نواز شریف کی علانیہ حمایت کا اعلان کیا کہ ”ان کا کِلّہ بڑا مضبوط ہے“ ۔ جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ نواز شریف کو ان کی ٹھوس پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے بڑے پراسرار انداز میں یہ بھی کہا کہ پیر پگاڑا اور محمد خان جونیجو نواز شریف کو ان کی جگہ سے ہٹانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔”
سردار چوہدری مزید لکھتے ہیں کہ “نواز شریف کے خلاف کتنی گہری سازش کی گئی تھی اور انہیں اس سے کس طرح بچایا گیا، یہ صرف ہمیں جانتے ہیں۔ شاید میاں صاحب کی شرافت اور خلوص نیت نے ان کے اقتدار کو بچا لیا۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں کہ وہ چوہدری پرویز الہی کے ساتھ جلد ہی اس طرح شیر و شکر ہو گئے جیسے کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔”
سال 1978ء میں آج کے دن وزارت اطلاعات نے قومی نشریاتی چینلز پر جوش ملیح آبادی کو بلیک لسٹ کیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق آئندہ جوش ملیح آبادی کی کوئی تحریر نہ تو ریڈیو اور ٹیلی وژن پر پیش کی جائے گی اور نہ خود انہیں ان اداروں پر اپنا کلام پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ یہی نہیں بلکہ آئندہ جوش صاحب کا کوئی مصرع یا کوئی سطر کسی قسم کی سرکاری مطبوعات میں بھی شائع نہ کیا جائے گا۔
1994ء میں آج کے دن لاہور میں شوکت خانم میموریل ہسپتال کا افتتاح ہوا۔
28 دسمبر1951ء کو وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین نے پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا افتتاح کیا۔
آج سندھی زبان کے دوسرے بڑے شاعر مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز کی برسی منائی جاتی ہے۔ آپ 28 دسمبر 1997ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔














