سعودی عرب اور امریکا نے پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، مہارت اور تکنیکی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے سعودی عرب کو اپنا اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دے دیا
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی تاریخی اسٹریٹجک شراکت داری کا تسلسل ہے اور گزشتہ برس ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکا کے دوران طے پانے والے فریم ورک کو عملی شکل دیتا ہے۔
The US and Saudi Arabia have reached a landmark agreement on civil nuclear power, the US Energy Department said, a deal that allows the kingdom to build nuclear reactors using American technology and to enrich uranium https://t.co/7b7A8TQFsI
— Reuters (@Reuters) July 23, 2026
معاہدے پر سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دستخط کیے۔
بیان کے مطابق یہ معاہدہ جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، جبکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب امریکا کے بعد بوئنگ کا بڑا شراکت دار، عالمی دفاعی نمائش میں انکشاف
سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات سے ہم آہنگ مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔













