آرمی چیف کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کادورہ: خودانحصاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا عزم

منگل 16 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سیّد عاصم منیر نے کہا ہے کہ خود انحصاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اقدامات کرتے رہیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو پی او ایف کی پیداواری صلاحیتوں، پاکستان کی مسلح افواج کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے میں اس کے تعاون اور برآمدی صلاحیت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

آرمی چیف عاصم منیر نے پی او ایف مصنوعات کی وسیع رینج کا مشاہدہ کیا جس میں ٹیسٹ اور ٹرائلز کے تحت مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کردہ نئے ہتھیار اور بارود شامل تھے۔

آرمی چیف نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کو اہم دفاعی صنعت بناکر ملک کی سلامتی اور معیشت میں بہترین کردار پر پی ایف افسران اور عملے کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہاکہ مقامی صنعتوں کے فروغ اور خودانحصاری سے قومی ترقی کا راستہ متعین ہوتا ہے۔ ہم خود انحصاری اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

قبل ازیں چیئرمین پی او ایف واہ نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا آمد پر استقبال کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟