متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کے لیے ویزے کیوں بند کردیے؟

جمعہ 19 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا پر ان دنوں دعوے کیے جا رہے ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سمیت دیگر جنوب ایشیائی ممالک کے شہریوں کے لیے ملازمت کے دروازے بند کر دیے ہیں اور انہیں اس مقصد کے لیے ویزے جاری نہیں کیے جارہے ہیں۔ یہ دعوے کس حد تک درست ہیں اور کتنے غلط، اس حوالے سے معروف اخبار ’خلیج ٹائمز‘ نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ متحدہ عرب امارات میں بعض کمپنیوں کو پاکستان سمیت چند دیگر جنوب ایشیائی ممالک کے افراد کو ملازمت پر رکھنے کے لیے ویزے جاری نہیں کیے جارہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایسی کمپنیاں جن میں کسی مخصوص ملک سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد زیادہ ہے اور جب وہ نئے ویزوں کے لیے درخواستیں دیتی ہیں تو انہیں متحدہ عرب امارات کی متعلقہ وزارت کی جانب سے ’بھرتیوں کے لیے آبادیاتی تنوع کی مقررہ شرح پوری کریں‘ کا پیغام موصول ہوتا ہے۔

ویزا ماہرین اور ایجنٹس نے تاہم ان دعوؤں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملازمتوں کے لیے ویزا کا اجرا روک دیا ہے۔

اس حوالے سے جب دبئی کے ایک بزنس سروس سینٹر نے متعلقہ وزارت سے رابطہ کیا تو ہدایت کی گئی کہ نجی کمپنیوں اور اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمین کی بھرتی کے عمل کے دوران میں مختلف ممالک کے افراد کو ملازمت کے مواقع دیں۔ متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ نجی اداروں کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ دستیاب کوٹہ میں پہلی 20 فیصد خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے صرف ایک ملک کے شہریوں کے بجائے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کریں۔

مثلاً اگر ایک کمپنی کسی مخصوص ملک کے شہری کو ملازمت پر بھرتی کرنے کے لیے ویزا کی درخواست دیتی ہے اور اس کی یہ درخواست آبادیاتی تنوع کے قانون کی بنیاد پر مسترد ہوجاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کمپنی کو چاہیے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے شہری کو ملازمت کا موقع فراہم کرے۔

یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسی مخصوص ملک کے شہریوں کے لیے نہیں بلکہ اس کا اطلاق تمام ممالک کے شہریوں پر مساوی بنیاد پر ہوتا ہے۔ حکام نے سوشل میڈیا پر ان دعوؤں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے بھارتی شہریوں کو ویزے جاری کرنا بند کر دیے ہیں۔

اس حوالے سے ایک بزنس سروس سینٹر کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ انہوں نے ایک کمپنی میں بھرتی کے لیے ایک بھارتی شہری کے ویزے کی درخواست جمع کرائی تو وہ منظور ہو گئی۔ انہوں نے کہا، ’ایک دوسری کمپنی جہاں بھرتی شہریوں کی تعداد زیادہ تھی، جب میں نے وہاں ملازمت پر بھرتی کے لیے ایک بھارتی شہری کے ویزے کی درخواست دی تو مجھے آبادیاتی تنوع کے قانون کا پیغام موصول ہوا‘۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں متعدد کمپنیوں میں ملازمین کی زیادہ تعداد کا تعلق بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہے۔

متحدہ عرب امارات نے 2022ء میں کمپنیوں کے لیے ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا تھا۔ اس طریقہ کار پر عملدرآمد کرنے والی کمپنیوں کو ورک پرمٹ اور ٹرانسفر فیس میں رعایت دی جاتی ہے۔ البتہ اس قانون کا اطلاق فری زونز میں نہیں ہوتا۔

یو اے ای حکام کے مطابق، اس قانون کا مقصد متحدہ عرب امارات کے سماجی اور ثقافتی تنوع کو نجی شعبہ کی بنیادی اقدار کا بھی ایک لازمی حصہ بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آن لائن بائیک رائیڈ کے دوران مبینہ ہراسانی، خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی

اسٹار ٹریک میں پاول چیخوف کا کردار ادا کرنے والے والٹر کوئنیگ چل بسے

منی پور میں بھارتی آسام رائفلز کے اہلکار کی خودکشی، فوجیوں میں نفسیاتی امراض شدت اختیار کرگئے

شی جن پنگ کے اقتدار میں مزید 5 سال کی توسیع کا امکان

میکسیکو  کی چیف الیکشن کمشنر بدعنوانی کے الزامات پر مستعفی

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں