سیف علی خان نے کہنی کی سرجری کیوں کروائی؟

ہفتہ 27 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی وڈ اداکار سیف علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ اگر وہ اپنے کہنی کی سرجری نہ کرواتے تو معذور ہو سکتے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سیف علی خان کہنی میں فریکچر ہوا تھا جس کی سرجری ممبئی کے کوکیلابین اسپتال میں کی گئی، اسپتال میں سیف کے ساتھ ان کی اہلیہ کرینہ کپور بھی موجود تھیں۔ میڈیا سے کی گئی گفتگو میں سیف علی خان کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے ہاتھ میں درد محسوس کررہے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ چوٹ کتنی گہری ہے۔

سیف علی خان کے مطابق فلم ؔ’دیوارا‘ کے لیے ایکشن سین کرتے ہوئے ایک بار پھر زخمی ہوا جس کے بعد درد کی شدت مزید بڑھ گئی، اس کے بعد ایم آر آئی کروایا تو پتا چلا کہ ٹرائی سیپ ٹینڈن بری طرح سے پھٹ چکا تھا۔

اداکار نے انکشاف کیا کہ اگر سرجری بروقت نہ ہوتی تو وہ اپنا ایک ہاتھ گنواسکتے تھے۔ مجھے صرف ہاتھ پر چوٹ لگی تھی، کمر یا کندھوں کی کوئی سرجری نہیں ہوئی اور یہ کوئی سنجیدہ سرجری نہیں تھی جس کی وجہ سے جلد ہی اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہوں۔

ڈاکٹرز کے مطابق انہیں مکمل صحت یاب ہونے کے لیے ایک ماہ آرام کرنا ہوگا۔ سیف علی خان نے بتایا کہ سرجری کافی عرصہ پہلے ہونا تھی جو تاخیر کا شکار ہوتی رہی تاہم اب میں کافی بہتر محسوس کررہا ہوں۔ انہوں نے تمام ڈاکٹرز، مداحوں اور خیر خواہوں کے لیے بھی محبت بھرے انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا