سابق ججز کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ، سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کردیے 

بدھ 31 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں اعلی عدلیہ کے سابق ججز کے خلاف کاروائی نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے دریافت کیا کہ اپیل وزارت قانون کی جانب سے دائر کی گئی ہے، کیا اس کی باقاعدہ اجازت لی گئی ہے، اٹارنی جنرل بولے؛ سیکریٹری قانون کا بیان حلفی لگایا گیا ہے، اس کیس کے فیصلے کے وقت وفاقی حکومت کو 27 اے کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا فیصلے میں آئینی تشریح کی گئی تھی، جس پر اٹارنی جنرل بولے؛ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل کو 27 اے کو نوٹس کرنا لازمی تھا، جسٹس امین الدین خان بولے؛ اگر آپ فریق نہیں تھے تو پہلے فریق بننے کی اجازت لینا ہوگی، اگر اپ فریق تھے تو پھر آپ 27 اے کا نوٹس کا ایشو اپیل میں اٹھا سکتے ہیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے دریافت کیا کہ وفاقی حکومت اس فیصلے سے کیسے متاثر ہو رہی ہے، جبکہ جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ کیا حکومت کا مسئلہ پینشن کی ادائیگی ہے، جس پر اٹارنی جنرل بولے؛ پینشن کی ادائیگی تو چھوٹا مسئلہ ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے دریافت کیا کہ اگر فیصلہ نہ ہوتا تو پھر وفاقی حکومت کا موقف کیا ہوتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین واضح ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جج کیخلاف کارروائی کرسکتی ہے، اگر شکایت درست نکلے تو جج کو عہدے سے برطرف کیا جاتا ہے، ریٹایرڈ یا مستعفی جج کو عہدے سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی بولے؛ جو شخص جج ہی نہیں رہا اس کےخلاف جوڈیشل کونسل کارروائی بے سود ہوگی۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ فریقین کو جاری نوٹس اپیل کے قابل سماعت ہونے سے مشروط ہوں گے، سپریم کورٹ میں اعلی عدلیہ کے سابق ججز کیخلاف کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا