نواز، عمران، بھٹو زرادی سے ملاقات اور نئے انکشافات

بدھ 7 فروری 2024
author image

ایس اے رحمان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عام انتخابات کی گہما گہمی میں پاکستان کی 3 بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا جن میں حیران کن انکشافات سامنے آئے۔ باتوں کے دوران محسوس ہوا کہ یہ تینوں سیاستدان اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ ان کے سیاسی رویوں میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ یہ اب ایک دوسرے کا دکھ درد سمجھتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ کون سی سیاسی جماعت حکومت بنائے گی اور کون وزیرِ اعظم کی کرسی سنبھالے گا، یہ تینوں رہنما اب مل جل کر ملک و قوم کو آگے لے جانے اور پاکستانی سیاست سے غیر جمہوری قوتوں کے کردار کے مکمل خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے پر رضامند نظر آتے ہیں۔

نواز شریف سے ملاقات

نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی انتخابی اور اشتہاری مہم میں بظاہر انہیں وزیرِ اعظم کے طور پر پیش کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں وہ خواجہ سعد رفیق کو وزیرِ اعظم بنانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ انہیں عمران خان سے کوئی شکوہ نہیں بلکہ ہمدردی ہے کیونکہ ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو ان کے ساتھ ماضی میں بار بار ہوتا رہا۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ تمام تلخیاں بھلا کر عمران خان اور دیگر سیاسی قائدین کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ لندن سے واپسی اور اپنے خلاف مقدمات ختم ہونے سے متعلق انہوں نے کہا ملک کے حالات اتنے خراب تھے کہ مجبوراً انہیں ڈیل کرنا پڑی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ ان کی آخری غلطی ہے مگر اب وہ آئندہ کبھی بھی غیر جمہوری قوتوں کی مدد سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ کرپشن کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ اقتدار میں آکر اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ کر دیں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں تھوڑی بہت منی لانڈرنگ ہوئی، سیاستدان بھی انسان ہیں، ان سے بھی غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں چور، ڈاکو اور غدار کہا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ لندن فلیٹس کے مالک نہیں بلکہ ان فلیٹس کے ’نگران‘تھے۔

عمران خان سے ملاقات

عمران خان سے اڈیالہ جیل میں خصوصی ملاقات ہوئی۔ وہ پہلے کی طرح ویسے ہی مضبوط اور توانا مگر اسٹیبلشمنٹ سے نالاں نظر آئے۔ باتوں باتوں میں عمران خان نے اعتراف کیا کہ وہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کی مدد سے وزیراعظم بنے تھے لیکن اب انہیں احساس ہوچکا ہے کہ الیکٹیبلز کی پارٹی میں شمولیت، ایک پیج پر ہونے کی بات پر فخر کرنا اور ’کسی‘ کے کہنے پر تمام تر توجہ دیگر جماعتوں اور کرپشن کے خلاف بیانیے پر مرکوز کردینا ان کی بڑی غلطیاں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سائفر سے متعلق مشورہ انہیں عارف علوی، اسد عمر، شیخ رشید، شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری نے دیا۔ انہوں نے سائفر، غیر شرعی نکاح اور توشہ خانہ مقدمات میں فیصلوں کو گھٹیا قرار دیا اور کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ یہ فیصلے عسکری قیادت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی ڈیل ہو گئی تو واپس اقتدار میں آکر عسکری قیادت کو عملی طور پر وزیراعظم کے ماتحت لانے کا قانونی بندوبست کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب سمجھ گئے ہیں کہ ان کی لڑائی نواز شریف اور آصف زرداری جیسے لوگوں سے نہیں ہے، اگر وہ دوستی کے لیے ہاتھ بڑھائیں گے تو وہ انہیں گلے لگائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ توشہ خانہ کے تحائف حاصل کرکے وہ اتنی مشکل میں پھنس جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت میں شامل وزرا اور ان کے دوستوں نے ٹھیکوں میں کرپشن کی اور کمیشن کھایا۔ عمران خان نے کہا کہ ملک ریاض اور دیگر دوستوں نے انہیں تحفے کے طور پر رقم دی اور بدلے میں انہوں نے ان لوگوں کو معمولی ’فیور‘ دی مگر انہوں نے خود کرپشن نہیں کی۔

بھٹو زرداری سے ملاقات

بلاول بھٹو اور ان کے والد گرامی نے ملاقات کے دوران بتایا کہ وہ سیاست میں شدت پسندی اور الزام تراشی کے قائل نہیں۔ زرداری صاحب نے کہا کہ تحریک انصاف سے معاہدہ ہو چکا ہے، اگر حزب اختلاف میں ہوئے تو پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اگلی حکومت بھی دو تین سال سے زیادہ نہیں چلے گی۔ بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے ہدایات نہیں لیتی بلکہ اپنے ’حساب‘ سے جمہوری فیصلے کرتی ہے۔ بلاول نے حکومت میں آ کر سادگی اپنانے، وی آئی پی کلچر ختم کرنے اور پارٹی پر لگے کرپشن کے داغ دھونے کے عزم کا اظہار کیا۔ میں نے زرداری صاحب سے پوچھا کہ آپ کو ’مسٹر 10 پرسنٹ‘ کیوں کہا جاتا ہے۔ وہ جواب دینے ہی لگے تھے کہ دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔

نیا انکشاف

دستک جاری رہی۔ میں نے زرداری صاحب سے کہا کہ اپنے ملازم کو دروازے پر بھیجیں تو زرداری صاحب نے چہرے پر اپنی خاص مسکراہٹ سجا لی۔ میں حیرانی سے انہیں تکنے لگا۔ اتنے میں دروازہ اور زور سے پیٹا گیا تو میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ ادھر ادھر دیکھا تو خود کو اپنے کمرے میں، اپنے بستر پر پایا۔ ٹیلی وژن پر الیکشن سے متعلق خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری تھا۔ ملک و قوم کی بہتری کے لیے حقیقی جمہوریت کے تانے بانے بنتی آنکھیں اب کھل چکی تھیں۔ سامنے پڑا اخبار امن و امان اور ملکی معیشت کی زبوں حالی کی گواہی دے رہا تھا۔ کچھ بھی نہیں بدلا تھا، سب کچھ ویسا ہی تھا۔ وہی غربت، وہی مسائل، دہشتگردی، قتل و غارت، گالم گلوچ، جھوٹے الیکشن اور جھوٹے وعدے۔ خود کو برا بھلا کہتا اٹھا اور دروازہ کھولا تو مالک مکان نے با آواز بلند کرائے کا تقاضا شروع کر دیا۔ جیب سے بٹوہ نکالا تو اس میں پورے 420 روپے تھے۔ اشارہ مل چکا تھا اور ملاقاتوں کا اثر بھی زائل نہیں ہوا تھا، سو میں نے بھی مالک مکان سے اگلی یکم کا وعدہ کر لیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp