برازیلین صدر کی جانب سے اسرائیل کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کے بعد اسرائیل اور برازیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ جبکہ برازیل نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برازیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ برازیل میں اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کریں گے، برازیلی صدر ڈی سلوا کے بیان کے بعد اسرائیل نے انہیں نا پسندیدہ شخصیت قرار دیا تھا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ برازیلین صدر جب تک اپنا بیان واپس نہیں لیتے انہیں اسرائیل میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ ہم نہ بھولیں گے نہ معاف کریں گے، یہ بہت سنجیدہ دشمن حملہ ہے۔
مزید پڑھیں
واضح رہے کہ برازیلی صدر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کرکے ہٹلر کا کردار ادا کر رہا ہے، غزہ میں نسل کشی کو برازیل کے صدر نے ہولوکاسٹ سے تشبیہ دی تھی۔ برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے یہ بیان ایتھوپیا میں افریقی یونین کانفرنس سے خطاب کے دوران دیا تھا۔
برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا کا کہنا تھا کہ تاریخ غزہ کی اس وحشیانہ جنگ کی مثال نہیں پیش کر سکتی، جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ ماضی میں کبھی بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ نسل کشی ہے۔ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کرکے ہٹلر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ غزہ جنگ ویسی ہی ہے جیسا ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔
برازیلین صدر کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتہائی جدید اسلحے سے لیس فوج کی غزہ میں عورتوں اور بچوں کے خلاف جنگ ہے، جو کچھ اسرائیلی فوج کی جانب سے کیا جا رہا ہے وہ سپاہیوں کی سپاہیوں کے خلاف جنگ نہیں ہے۔


















