امریکا نے اسرائیل غزہ جنگ روکنے کے لیے منصوبہ پیش کردیا

منگل 20 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں حماس اسرائیل جنگ میں عارضی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا اور رفح میں اسرائیل کی جانب سے بڑے زمینی حملے کی مخالفت کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکا نے یہ قرارداد الجیریا کی جانب سے سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی قرارداد کی مخالفت میں جمع کرائی ہے۔ الجیریا کی جانب سے جمع کرائی قرارداد پر آج سلامتی کونسل میں بحث ہوگی۔ امریکا نے چند روز پہلے عندیہ دیا تھا کہ وہ اس قرارداد کو ویٹو کردے گا۔

الجیریا نے اپنی قرارداد میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو امریکا، مصر، اسرائیل اور قطر کے مابین امن مذاکرات جنگ روکنے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی میں ناکام ہوجائیں گے۔

7 اکتوبر سے حماس اسرائیل جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی کارروائیوں میں لفظ ’جنگ بندی‘ کی مخالفت کی ہے۔ تاہم حالیہ امریکی قرارداد کا متن اس مؤقف کو ظاہر کر رہا ہے جو صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت میں بیان کیا تھا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سلامتی کونسل تمام یرغمالیوں کو رہا کیے جانے کے فارمولے کی بنیاد پر غزہ میں جلد از جلد عارضی جنگ بندی پر زور دے گی اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہٹانے کا مطالبہ کرے گی۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکا ووٹنگ کے عمل میں جلدی کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ مذاکرات کے لیے وقت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی قرارداد کو منظور کرنے کے لیے کم از کم 9 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ امریکا، فرانس، برطانیہ، روس یا چین کی طرف سے اس پر کوئی ویٹو نہیں ہونا چاہیے۔ امریکی قرارداد کے مسودے کے مطابق، موجودہ حالات میں رفح میں ایک بڑی زمینی کارروائی کے نتیجے میں شہریوں کو مزید نقصان پہنچے گا اور وہ ممکنہ طور پر پڑوسی ممالک میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اسرائیل نے رفح پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ رفح میں غزہ کے 10 لاکھ سے زیادہ متاثرہ شہریوں نے پناہ لی ہوئی ہے۔ اسرائیلی منصوبے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے کہ اسرائیلی حملہ غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین کر دے گا۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ اسرائیلی منصوبہ قتل عام کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکی قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے علاقائی امن اور سلامتی کو سنگین خطرات ہوں گے لہٰذا موجودہ حالات میں اتنی بڑی زمینی کارروائی کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکا روایتی طور پر اسرائیل کو اقوام متحدہ کی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ 7 اکتوبر سے اب تک امریکا سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قراردادوں کو 2 مرتبہ ویٹو کر چکا ہے جبکہ 2 ایسی قراردادوں کی کارروائیوں میں شریک نہیں ہوا جن کا مقصد غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل بڑھانے کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی قوم کا فخر، آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

کرسٹوفر نولان کی ’دی اوڈیسی‘ ریلیز کے چند دن بعد ہی آن لائن لیک، یونیورسل پکچرز کا قانونی کارروائی کا اعلان

ایمازون پر ملازمین چرانے کا الزام، وارنر برادرز نے عدالت میں بڑا مقدمہ دائر کردیا

جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم آج پاکستان پہنچے گی، 4 بین الاقوامی ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش