وی نیوز کا ایک سال

اتوار 3 مارچ 2024
author image

صنوبر ناظر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پچھلے سال 28 فروی کو میں ایک بے رونق سے کیفے میں اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کی بے معنی گفتگو اور بے مزہ اور ٹھنڈی کافی کے گھونٹ پی رہی تھی کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجنا شروع ہو گئی۔ کال عمار مسعود صاحب کی تھی۔

قدرت کی جانب سے راہ فرار کا موقع میسر آیا تو فوراً ’ ایکسکیوز می” کہہ کر کیفے کے ٹیرس پر جاکر کال اٹھائی۔

عمار صاحب نے ہمیشہ کی طرح بڑے پُر تپاک انداز میں سلام کیا۔

صنوبر ’وی نیوز‘کل لانچ ہو رہا ہے اور ہمارے لیے پہلا کالم آپ لکھیں گی۔ موضوع ’ پاکستانی سیاست میں خواتین کا کردار‘ ہے۔ عمار صاحب! نے فیصلہ بھی صادر کر دیا۔

عمار صاحب! ابھی تو میں کہیں باہر ہوں واپس آنے میں دیر ہو جائے گی ۔ دوسرا ’سوانگ گروپ‘ وومن ڈے  پر ایک ڈراما تیار کر رہا ہے اور اس کی شام کو ڈریس اپ ریہرسل بھی ہے ۔ اتنی جلدی ایسے موضوع پر لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، میں نے تمہید باندھی اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔

 یہ آپ کے بایاں ہاتھ کا کھیل ہے بس آپ لکھنا شروع کریں اور رات اسامہ خواجہ کو بھیج دیں۔ عمار صاحب! بضد رہے۔

جناب ایسے کالمز ایک تفصیلی ریسرچ مانگتے ہیں، ذرا بھی اونچ نیچ ہوئی تو ساری سیاسی جماعتوں کی توپ کا رخ میری جانب ہی ہوگا۔ میں نے انہیں سچائی سے آگاہ کیا۔

آپ لکھ لیں گی بس اب ریسرچ کریں وقت ضائع نہ کریں۔ یہ کہہ کر عمار صاحب نے فون بند کردیا۔

میں شش و پنج میں تھی کیونکہ میرا کالم ہر اتوار شائع کرنے کی بات ہوئی تھی اور یہ افتاد اچانک سے آپڑی تھی۔

خیر سوچا کہ یہاں بیٹھ کر فضول باتوں پر جمائیاں لینے سے ہزار درجے بہتر ہے کہ خواتین کی سیاسی جدوجہد بارے کچھ مواد اکٹھا کیا جائے۔

خیر رات 11 یا 12 بجے اسامہ خواجہ کو کالم لکھ کر بھیج دیا۔ بس یہاں سے میرا ’وی نیوز‘ کے ساتھ ایک تعلق بن گیا۔  ’وی نیوز‘ کے لانچ ہونے سے پہلے عمار صاحب! نے ایک دن آفس آنے کی دعوت دی تاکہ تمام ساتھیوں سے تعارف ہوجائے۔

آفس میں داخل ہوتے ہی ایک اپنائیت کا احساس ہوا۔ اگرچہ میں یہاں سوائے عمار صاحب کے کسی اور سے شناسا بھی نہ تھی لیکن ’وی نیوز‘ میں کام کرنے والے تمام ساتھیوں سے مل کر محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ پہلی ملاقات ہے۔

پروڈکشن، کیمرہ اور ایڈیٹنگ سے اچھی خاصی دوستی رہی تھی لیکن اس شعبے سے رخ موڑے ہوئے 10 سال بیت چکے تھے۔ ’وی نیوز‘ کے تقریباً 30 ساتھیوں سے تعارف ہونے کے بعد عمار صاحب نے مجھے اسٹوڈیو میں ایک ٹیزر ریکارڈ کرانے کے لیے کہا۔

کیمرہ کے سامنے؟  میں بوکھلا گئی۔

جی بالکل کیونکہ آپ ’وی نیوز‘ کے لیے وی لاگ بھی کیا کریں گی۔  عمار صاحب نے چیف ایڈیٹر ہونے کا مکمل ثبوت پیش کیا۔

خیر جیسے تیسے کئی ری ٹیک کے بعد ٹیزر ریکارڈ کروایا کہ کیمرہ کے سامنے میری ہمیشہ ہوائیاں ہی اڑ جایا کرتی تھیں۔

لیکن کیمرہ پر موجود ساتھی کی حوصلہ افزائی نے آنے والے وقت کو آسان کر دیا تھا اور پھر میں نے بھی ٹھان لیا کہ اب کیمرہ فیس کرنا ہے تو دوبارہ اس سے دوستی کرنی پڑے گی۔

بس پھر چل پڑی اپنی ریل وی نیوز کی پٹری پر ۔

’وی نیوز ‘کے دفتر کا ماحول خوب دوستانہ ہے اور جو چیز  مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ خواتین عملے کے ساتھ سب کا عزت و احترام کا رشتہ ہے۔

وی نیوز کے دفتر میں جیسے ہی داخل ہوں تو سامنے استقبالیہ پر ہنستا مسکراتا چہرہ  نظر آتا ہے۔

وی نیوز کے دفتر جائیں اور آپ کو عمار صاحب اور وسیم عباسی صاحب! کے قہقہے گونجتے سنائی نہ دیں، ایسا تو ممکن نہیں۔ عمار صاحب کا تمام عملے کے ساتھ ایک چیف ایڈیٹر نہیں بلکہ دوست اور شفقت کا رشتہ ہے۔

اسامہ خواجہ میرے آفس پہچنے سے پہلے ہی کالم کا پرنٹ آؤٹ نکال کر تیار رکھتے ہیں۔

کیمرہ مین مزمل صاحب سے شروع میں کم لائٹ رکھنے پر بحث ایک معمول کی بات ہوا کرتی تھی جو بتدریج کم ہوتے ہوتے اب ختم ہو گئی ہے۔ کیونکہ اب ہمارا لائٹ پر سمجھوتا ہو گیا ہے۔

وی نیوز میں کھانے پینے کا بھی بڑا چلن ہے۔ اگر کھانا نہ بھی ہو تو گفتگو میں کم از کم من و سلویٰ کا ذکر لازمی ہوتا ہے۔

عمار صاحب سے چونکہ دوستی کا رشتہ عرصہ پرانا ہے سو وہ اکثر وی نیوز کے ساتھیوں کے سامنے میرے بنائے ہوئے کھانوں کی کھلے دل سے تعریفیں کرتے تھے خاص کر نہاری کی۔

آخر ایک دن میں نے سارے وی نیوز کے ساتھیوں کے لیے بنائی نہاری اور لے گئی آفس۔۔۔۔

اصل میں یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی ایک دفتر کے ماحول کو دوستانہ بنائے رکھتی ہیں۔۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ عمار صاحب کا میرے لیے ’وی لاگ ‘کرنے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔کیونکہ کالم لکھنا اور کالم کیمرے کے سامنے پڑھنے میں بڑا فرق ہے۔

 اپنے شروع کے  اور آج کے وی لاگز میں زمین آسمان کا فرق مجھے واضح نظر آتا ہے، الفاظ کے اتار چڑھاؤ کو نکھارنے میں عمار صاحب نے بہت رہنمائی کی۔

نصرت جاوید صاحب کے نام سے کون واقف نہیں۔ آفس میں ان سے اکثر ملاقات رہتی ہے۔  انہوں نے مجھے کیمرہ فیس کرنے کے مفید مشورے بڑے دوستانہ انداز میں دیے جس کے لیے میں ان کی ہمیشہ مشکور رہوں گی۔

اگر ارادے مضبوط  اور اچھے دوست میسر ہوں تو دنیا کا کوئی کام مشکل محسوس نہیں ہوتا۔

بس اچھے دوستوں کی صحبت میں رہنا شرط ہے۔  ورنہ آپ کی زندگی بدمزہ، سطحی گفتگو اور بے معنی دوستیوں میں ضائع ہو کر رہ جاتی ہے۔

اور ہاں ’وی نیوز‘ کے آفس کی ’کافی‘ کا تو کوئی نعم البدل ہی نہیں۔ جب بھی ’وی نیوز‘ آئیں تو ہمارے آفس بوائے کے ہاتھ کی کافی پینا مت بھولیے گا اس میں ذائقہ اور خلوص دونوں ملیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صنوبر ناظر ایک متحرک سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔ تاریخ میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ خواتین کی فلاح اور مختلف تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر چکی ہیں۔ کئی برس سے قومی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے باقاعدگی سے لکھتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ