ایپل نے تیز تر میک بک ایئر لیپ ٹاپ متعارف کرادیا

پیر 4 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے پیر کے روز نئے اپنے جدید ترن ایم 3  پروسیسرز والے 2 نئے میک بک ایئر لیپ ٹاپس کی رونمائی کردی۔

ایپل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ زیادہ طاقتور ماڈلز مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کمپیوٹرز کو اپ گریڈ کرنے کے متنمی صارفین کو اپنی جانب راغب کریں گے۔

کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ نئےمیک بک ایئر ماڈلز  کی اسکرین کا سائز 13 انچ اور 15 انچ کا ہوگا اور یہ لیپ ٹاپ ایپل کے ایم 1 پروسیسر والے ماڈل سے 60 فیصد زیادہ تیز ہوگا۔

چھوٹے ماڈل کی قیمتیں امریکا میں ایک ہزار 99 ڈالر سے شروع ہوتی ہیں جب کہ بڑے  میک بک ایئر کے بیسک (بنیادی) ورژن کی قیمت ایک ہزار 299 ڈالر رکھی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق دونوں ماڈلز پیر سے آرڈر کے لیے دستیاب ہیں جن کی ڈیلیوری اس ہفتے کے آخر میں ڈیلیوری شروع ہوجائے گی۔ انٹیل سے علیحدہ ہوکر ایپل کمپنی سنہ 2022

سے اپنی چپ استعمال کررہی ہے۔

کورونا کی عالمی وبا کے نتیجے میں آنے والے معاشی زوال کے بعد اب سنہ 2024 میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پرسنل کمپیوٹرز کے متعارف ہونے سے کمپیوٹرز کی مارکیٹ کی بحالی میں خاصی مدد مل رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں