خضدار:گاڑی پر بم حملہ،2 افراد جاں بحق

منگل 14 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 بلوچستان کے علاقے خضدار میں نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے نجی گاڑی میں نصب کی گئی ڈیوائس کے دھماکے نے 2 افراد کی جان لے لی۔

پولیس کے مطابق دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال خضدار منتقل کردیا گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت نوید احمد اور امان اللہ کے نام سے ہوئی ہے ۔

https://twitter.com/Deedagbaloch32/status/1635664082689728512?s=20

صوبے کوعدم استحکام کاشکارکرنے کی سازش ناکام بنائیں گے،وزیراعلیٰ بلوچستان

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے خضدار میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد معصوم شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنارہے ہیں مگر ہم صوبے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔

عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے اور ہمیں دہشت گردوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے خضدار میں سیکیورٹی اقدامات کو بھی مزید موثر بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘