برطانوی حکومت کی انتہا پسندی کی نئی تعریف، ائما و علما کا استرداد

جمعہ 22 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے 400 سے زائد ائما اور علما نے انتہا پسندی سے متعلق برطانوی حکومت تعریف مسترد کر دی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں برطانیہ میں انتہاپسندی کی نئی تعریف متعارف کروائی گئی ہے جس میں دوسروں کے بنیادی حقوق اور آزادی کی نفی یا تباہی کو بھی انتہاپسندی کی تعریف کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں برطانیہ کی لبرل پارلیمانی جمہوری نظام اور جمہوری حقوق کو کمزور کرنے یا تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کو بھی انتہا پسندی کی نئی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔

تاہم 400 سے زائد ائما اور مذہبی اسکالرز نے مذکورہ تعریف مسترد  کرتے ہوئے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انتہا پسندی کی تعریف غلط اور علمی طور پر بے بنیاد ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھقا کہ یہ قدامت پسند سیاسی تشدد کی بنیاد پر انحصار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نئی تعریف متعارف کرنے والے وزیر مائیکل گوو اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ایک تاریخ رکھتے ہیں اور ان کے اسرائیل نواز لابیز کے ساتھ بھی گہرے روابط ہیں۔

ائما و علما نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ برطانیہ کو کرپشن اور نا انصافی سے پاک کرنے کے  لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں بدامنی کی وجہ صرف معاشی مسائل نہیں، پروپیگنڈے نے حقائق کو مسخ کیا

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟