پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام ابھی شروع نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

جمعرات 28 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ بشام حملہ میں ملوث لوگ ملک دشمن ہیں اور یہ لوگ پاکستان اور چین کی دوستی کے دشمن ہیں، پاکستان حکومت چین کے ساتھ رابطے میں ہے۔ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔

’ملزمان کو جلد کٹہرے میں کھڑا کریں گے‘

ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ 26 مارچ کو بشام میں ہونے والے واقعے میں 5 چینی باشندے مارے گئے، واقعے کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہیں، ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو جلد پکڑ لیں گے اور سزا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے، پاکستان اور چین کی دوستی بہت گہری ہے، اس طرح کے واقعات اور حالات پیدا کرکے دونوں ممالک کی دوستی خراب نہیں کی جاسکتی۔ دونوں ممالک اسی طرح بہمی تعاون کے ساتھ خطے کی بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین کا اپنے شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے تشویش قدرتی امر ہے، حکومت پاکستان چین کے تحفظات کو سمجھ سکتی ہے، پاکستان اور چین مل کر پاک چین دوستی کے دشمنوں کو ناکام بنائیں گے۔

انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری کامرس خرم آغا افغانستان کے دورے پر ہیں، وہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے تجارت نورالدین عزیزی سے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، باہمی تعلقات، خطے میں امن اور دیگر امور پر بات چیت کی ہے۔

’پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام ابھی شروع نہیں ہوا‘

پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن پر ابھی کام شروع ہی نہیں ہوا۔

’افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے‘۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ملوکوں کے درمیان مذاکرات میں سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کودرپیش رکاوٹوں کو دورکرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پرغور کیا گیا، ملاقاتوں میں پاک افغان بارڈر، ٹرانزٹ اور دیگر امور زیر غور رہے۔ پاکستان افغانستان کےساتھ تجارت اور تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی قرارداد کے باوجود اسرائیل ابھی بھی فلسطین میں بے گناہ لوگوں کو قتل کررہا ہے، رفح اور غزہ کی پٹی میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان اسرائیل کے دہشتگردانہ اور ظالمانہ رویے کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ فلسطین میں جاری بربربیت کو ختم ہونا چاہیے۔

ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ فلسطینی بھوک اور قحط کا شکار ہیں، اسرائیل نے پابندیاں لگا کر ان کو امداد اور کھانے پینے کی چیزوں سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پیش نظر اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کو حل کیا جائے۔ پاکستان جون 1967 سے قبل سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا۔

’بھارت کے بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘

ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لیتھیئم کے ذخائر کا ٹھیکہ دینا غیر قانونی اور کشمیریوں کو اپنے قدرتی وسائل سی محروم کرنا ہے، مقبوضہ کشمیر کو اسکے وسائل سے محروم نہ کیا جائے، پاکستان کشمیر کے لیے سیاسی اور اخلاقی سپورٹ جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کی کچھ بزنس مینوں کی درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے، خارجہ پالیسی معاملات کا جائزہ لینا ایک مسلسل عمل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا