پاکستان کا خط بنام ریاست

منگل 2 اپریل 2024
author image

محمد وقاص اعوان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بعد از سلام، طرفین کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ امید ہے بفضلِ خدا آپ کی اچھی گزر رہی ہو گی۔ پہلے بھی کافی مکتوب لکھے مگر جوابی خط کی راہ تکتے آنکھوں میں ریت بھر چکی ہے۔ ایک بار پھر اس امید کے ساتھ قلم اٹھایا ہے کہ شاید قمست کی دیوی مجھ پر مہربان ہو جائے اور جناب کی توجہ حاصل ہو جائے۔

جناب عالی! مقرر عرض ہے کہ مجھے معرض وجود میں آئے 75 برس ہو گئے ہیں مگر میرا کوئی پرسان حال ہی نہیں۔

اس ملک کے چند بڑے کچھ بھی فیصلہ کر لیتے ہیں پھر وہ کسی کو قبول ہو یا نا ہو، چلنا مجھے اسی پر ہوتا ہے لیکن وہ مجھے اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ میرے اندر 4 موسم ہیں، کھیت ہیں، کھلیان ہیں، سرسبز و شاداب زمینیں ہیں لیکن پھر بھی مجھے مقروض کرنے والے کون تھے اور کون ہیں؟

کبھی کسی نے سوچا کہ میں ایک آئین و قانون کے تحت چلنے والی ریاست ہوں، آزاد ہوں مگر کیوں اس آئین و قانون کو تار تار کر کے اپنے طریقوں سے چلایا جاتا ہے؟ مجھے اندرونی و بیرونی طور پر کمزور کرنے والے کون ہیں؟

کبھی کسی نے سوچا کہ میں تو لا الہ اللہ پر بنا تھا، ایک پر امن ریاست تھی جس میں لوگ سکون سے رہتے تھے، پھر ایسا کیا ہوا کہ دہشگردی نے مجھے گھیر لیا اور میری قوم کے لوگ بھی شہید ہوئے اور میرے سیکورٹی اداروں کے لوگ بھی شہید ہوئے؟

کبھی کسی نے سوچا کہ یہاں تو سب کو بنیادی حقوق برابری کی سطح پر ملنے تھے، پھر لوگ کیوں انصاف کی خاطر مارے مارے پھرتے رہے؟ میری عدالتوں کے باہر لگا ترازو کیوں سب کو انصاف نا دے سکا؟

کبھی کسی نے سوچا کہ یہاں تو سب کے لیے برابر مواقع ہونا تھے مگر غریب، غریب تر کیوں ہوا اور امیر، امیر تر کیسے ہو گیا؟ کیوں چند لوگوں کے درمیان عہدوں کی بندر بانٹ ہوئی؟ کیوں اس ملک میں سب کو برابر مواقع میسر نا ہوئے؟ کیوں ایک عام آدمی بڑے ایوانوں تک نا پہنچ پایا؟ کیوں سیاست چند خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گئی؟

کبھی کسی نے سوچا کہ آئین و قانون کی پاسداری کرنے والے اور ملک میں عدل و انصاف کے علمبردار استعمال ہو کر غلط فیصلوں سے مجھے اور میرے مستقبل کو کھوکھلا کرتے رہے۔

کبھی کسی نے سوچا کہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے آپسی اختلافات نفرت میں کیسے بدلے؟ مجھے کس بات کی سزا دی گئی کہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر میرے اندر رہتے ہوئے آپس میں اختلافات کو نفرت میں بدل دیا؟

کبھی کسی نے سوچا کہ یہ اسلامی جمہوری پاکستان ہے، اس کی قیادت کو منتخب کرنے کا فیصلہ جمہور کے پاس ہے، انہیں ہی لانے اور نکالنے کا اختیار ہے، پھر کیوں چند لوگ اپنے فیصلے صادر فرما کر میرے اوپر وہ لوگ مسلط کرتے ہیں جنہیں عوام منتخب نہیں کرتی؟

کسی نے سوچا کہ مجھے تو اللہ نے ہر دولت سے مالا مال کیا ہے مگر کیوں اور کن وجوہات پر مجھے کشکول تھما کر دنیا میں مانگے پر مجبور کر دیا گیا؟

کسی نے سوچا کہ دن رات کرپشن تو کرتے ہو مگر مجھے کیا دیا؟ میرا خون چوس کر میرے ہی اوپر حکمرانی کرتے ہو، میرا ہی حق چھین کر مجھے ہی تکلیف دیتے ہو اور میرے درد کا احساس تک نہیں کرتے۔

گزشتہ 10 سالوں میں سوائے اندرونی خلفشار اور نفرتوں اور اقتدار کے حصول کے سوا کسی نے میرے لیے کیا کِیا ہے؟

کیا کسی نے سوچا؟ نہیں، بالکل نہیں اور حالات دیکھ کر لگ بھی ایسا ہی رہا ہے کہ کوئی سوچے گا بھی نہیں۔

جوابی خط کی امید کے ساتھ
فقط آپ کا اپنا پیارا پاکستان

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سماء نیوز کے ساتھ گزشتہ 8 برس سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہیں۔ اس سے قبل دیگر میڈیا چینلز کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارتی جھوٹ پر مبنی فلم دھرندھر کے جواب میں پاکستان کا ’میرا لیاری‘ فلم کا اعلان، شائقین پُرجوش

پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کا دائرہ کار وسیع، پورٹ قاسم اور ریکوڈک سے اہم معاہدے طے پاگئے

شعیب اختر ڈھاکا کیپیٹلز کے مینٹور کے طور پر بنگلہ دیش پہنچ گئے

ٹریفک حادثے میں جاں بحق معروف اینکر کی نماز جنازہ کا اعلان

کراچی کا اسٹیڈیم لاہور سے بھی اچھا ہوگا، پی سی بی چیئرمین نے نیا پلان شیئر کردیا

ویڈیو

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

پاؤں سے پینٹنگز بنانے والی گلگت بلتستان کی باہمت فنکارہ زہرا عباس کی بے مثال کہانی

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی