چینی سفیر سے ملاقات: عالمی برادری کی لاپرواہی بھارت کو دہشتگردی کا لائسنس دینے کے مترادف ہے، عبداللہ گل

اتوار 7 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے سفیر جیانگ زیدونگ سے تحریک جوانان پاکستان کے چیئرمین محمد عبداللہ حمید گل نے تفصیلی ملاقات کی ہے جس میں پاکستان اور دنیا بھر میں بھارت کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق عبداللہ گل نے چینی سفیر سے ملاقات میں کہا کہ ’ بھارت کے وزیر دفاع کس طرح پاکستان میں ہونے والے قتل عام کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کسی بھی بین الاقوامی امن تنظیم نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔

سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے بھارت نے بشام میں چینی انجینیئرز پر حملہ کیا

انہوں نے عالمی برادری کی لاپرواہی کو بھارت کو دہشت گردی کا لائسنس دینے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے کو متاثر کرنے کے لیے بشام میں چینی انجینیئرز پر حملہ کیا ہے۔

 اس موقع پر چینی سفیر نے پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مرحوم جنرل (ر) حامد گل کے کردار کو سراہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لبنان جنگ بندی، مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہترین سپہ سالار، قریبی دوست ہیں، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟