برطانیہ جانے والے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے بری خبر، نئی شرائط کیا ہیں؟

ہفتہ 13 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی حکومت نے امیگریشن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فیملی ویزا کی شرائط میں اضافہ کرتے ہوئے اسپانسر کرنے کے لیے آمدنی میں 55 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔

نئی شرائط کے تحت سوشل کیئر کے شعبے میں کام کرنے والے افراد اب زیر کفالت افراد کو برطانیہ نہیں لا سکیں گے۔

برطانیہ آنے والے افراد کی تعداد محدود کرنے کے لیے نئے قواعد لاگو کر دیے گئے ہیں، برطانیہ میں ہنرمند اور فیملی ویزا پر آنے والوں کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

ہبرمند افراد کے برطانوی ویزا کے لیے تنخواہ کی حد 26 ہزار 200 سے بڑھا کر 38 ہزار 700 پاؤنڈ کردی گئی ہے۔

فیملی ویزا کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد بھی 18 ہزار 600 سے بڑھا کر 29 ہزار پاؤنڈ کردی گئی۔

فیملی ویزا کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد کو 2025 تک پہلے 34 ہزار 500 اور پھر 38 ہزار 700 پاؤنڈ کردیا جائے گا۔

فیملی ویزا پر مقیم افراد پر ویزا کی تجدید کے وقت نئے قواعد کا اطلاق نہیں ہوگا۔

واضح رہے برطانوی حکومت اس سے قبل مئی 2023 میں اسٹوڈنٹ ویزا کو سخت کرنے کے اقدامات کرچکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خدمت کا موقع ہر کسی کو نہیں ملتا، عہدہ اللہ کی امانت ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل کیوں منتقل کیا گیا؟ پی ٹی آئی کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

حکومت نے عدالتی حکم کی روح کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کرا دیا

’گووندا اور کومل شادی کرنے والے تھے‘، طلاق کیس واپس لینے کے بعد بیوی سنیتا آہوجا کا انکشاف

صومالیہ: ترک ہتھیار لے جانے والا کارگو جہاز قزاقوں نے ہائی جیک کرلیا، 6 بھارتی بھی سوار

ویڈیو

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

کالم / تجزیہ

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک