آغا خان یونیورسٹی ہسپتال دنیا کے 100 اعلیٰ اکیڈمک میڈیکل سینٹرز میں شامل

منگل 30 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں قائم آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) دنیا بھر کے اعلیٰ 100 اکیڈمک میڈیکل سینٹرز میں شامل کیا گیا ہے۔برانڈ فنانس 2024 گلوبل ٹاپ 250 اسپتالوں کی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کے 4 دیگر اسپتال بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔

رپورٹ کے مطابق اے کے یو ایچ کو 85ویں نمبر پر رکھا گیا ہے جبکہ میو اسپتال، جناح اسپتال، کمبائنڈ ملٹری اسپتال اور یونیورسٹی ڈینٹل اسپتال نے 250 رینکس کی فہرست میں جگہ بنائی۔

فہرست کی پہلی دو پوزیشنیں امریکی اسپتالوں نے حاصل کیں جبکہ ایک بھارتی اسپتال تیسرے نمبر پر ہے، مجموعی طور پر 3 بھارتی اسپتال ٹاپ 100 رینکس میں شامل ہیں۔اے کے یو ایچ کستان کا واحد ہسپتال ہے جسے اسپتال کی منظوری دینے والے دنیا کے معروف ادارے جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل نے تسلیم کیا ہے۔

درجہ بندی کے دوران مریضوں کی بہترین دیکھ بھال اور علاج کے نتائج کو یقینی بنانے والے متعدد عوامل پر غور کیا گیا جس میں جدید سہولیات، سازگار ماحول، اور جدید طبی ٹیکنالوجی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟