’ہم کو ابتک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے‘، رئیس المتغزلین حسرت موہانی کو جدا ہوئے 73برس بیت گئے

اتوار 12 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہد آزادی حسرت موہانی کی برسی کل (پیر 13 مئی ) منائی جائے گی۔ حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص حسرت تھا، وہ 4 اکتوبر 1875 کو قصبہ موہان ضلع اناؤ میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا۔ حسرت موہانی نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی، 1903میں علی گڑھ سے بی اے کیا۔

سودیشی تحریک کے حامی

عربی کی تعلیم مولانا سید ظہور الاسلام فتح پوری سے اور فارسی کی تعلیم مولانا نیاز فتح پوری کے والد محمد امیر خان سے حاصل کی۔ حسرت موہانی سودیشی تحریک کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے آخری وقت تک کسی ولایتی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔

’اردوئے معلیٰ

انہیں شروع سےہی شاعری کا ذوق تھا اور اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903میں علی گڑھ سے ایک رسالہ ’اردوئے معلیٰ‘جاری کیا، اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا اور سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔

پہلی جیل یاترا

1907میں ایک مضمون شائع کرنے پر پہلی بار جیل بھی گئے، اس کے بعد 1947تک کئی بار قید اور رہا ہوئے، اس دوران ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی، رسالہ بھی بند ہو چکا تھا لیکن ان تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔

’رئیس المتغزلین‘

آپ کو ’رئیس المتغزلین‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مولانا حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے ایک تھے۔

13 حج

مولانا حسرت موہانی نے کل 13 حج کیے، پہلا حج 1933میں کیا اور آخری 1950 میں ادا کیا۔ 1938 میں حج سے واپسی پر مصر، عراق اور ایران بھی گئے۔

وفات

حسرت موہانی 76 سال 7 ماہ 9 دن کی عمر میں 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں وفات پا گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے منعقدہ تقریبات میں حسرت موہانی کی علمی، ادبی اور سیاسی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp