کوئٹہ میں کپڑے کی وہ مارکیٹ جہاں کم داموں میں سوٹ دستیاب ہیں

جمعہ 28 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو ملک بھر میں تجارتی گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ آٹو موبائل ہو، الیکٹرانکس کا سامان ہو یا دیگر اشیائےضروریہ ہوں وہ اس شہر میں کم قیمت پر باآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔

اگر کپڑے کی بات کی جائے تو شہر کے وسط میں ’کٹ پیس گلی‘ نامی ایک ایسی مارکیٹ بھی شہر میں موجود ہے جہاں سے ہر قسم کا ملکی اور غیر ملکی کپڑا کم قمیت پر دستیاب ہوتا ہے.

’کٹ پیس گلی‘ میں کاٹن، ریشم، کھدر، چکن، بوسکی، لٹھا، لان سمیت زنانہ اور مردانہ کپڑوں کی ایک کثیر ورائٹی موجود ہے۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کٹ پیس مارکیٹ کے ایک دکاندار نے کہا کہ کٹ پیس مارکیٹ کوئٹہ کی سب سے پرانی کپڑے کی مارکیٹ ہے جہاں پر پنجاب، سندھ سے لے کر جاپان، چین، روس، ملیشیا سمیت کئی ممالک کا کپڑا دستیاب ہے، اسی طرح ہر موسم اور نت نئے ڈیزائین بھی اس مارکیٹ میں کم قیمت پر دستیاب ہیں۔

عبد الواسع نے کہا کہ برانڈڈ کپڑوں میں زنانہ اور مردانہ سوٹ جو 6 سے 7 ہزار روپے میں ملتا ہے وہ کٹ پیس گلی میں 15 سو سے 2 ہزار روپے میں دستیاب ہے، اسی لیے بلوچستان کے بیشتر اضلاع سمیت ملک کے کونے کونے سے لوگ اپنی پسند کا کپڑا خریدنے کے لیے کٹ پیس گلی کا چکر لگاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالواسع نے بتایا کہ کپڑے کے کام میں برانڈڈ کپڑوں کے آجانے سے کام پر اثر تو ہوا ہے لیکن کچھ زیادہ نہیں کیونکہ اس مارکیٹ سے امیر اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد یکساں خریداری کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار