شائستہ صادق کا دل شنگریلا جھیل دیکھ کر کیوں ٹوٹا؟

منگل 9 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شائستہ صادق لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک سفر نامہ نگار ہیں، کہتی ہیں کہ میں نے مشہور سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کی کتابیں پڑھ کر سفر کرنا شروع کیا۔

انہوں نے کہاکہ جب میں اس بار اسکردو آئی تو قدرت کی دی ہوئی خوبصورتی کو دیکھ کر بے اختیار ماشااللہ اور سبحان اللہ کہتی ہوئی اسکردو پہنچی۔

یہ بھی پڑھیں گلگت بلتستان: اسکائی سائیکلنگ اور زپ لائن ایڈونچر نے سیاحوں کے دل جیت لیے

شائستہ صادق کہتی ہیں کہ اللہ نے ہمارے ملک کو بے پناہ خوبصورتی سے نوازا ہے، جہاں خوبصورت پہاڑ، جھیلیں، دریا اور آبشاروں سمیت کیا نہیں ملتا۔ مگر میرا دل تب ٹوٹا جب میں نے دیکھا کہ اسکردو کا خوبصورت سیاحتی مقام اور جھیل گندگی اور کچرے میں تبدیل ہورہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جھیل کا پانی بدبودار ہونے کے ساتھ ساتھ بے ہنگم تعمیرات سے علاقے کی خوبصورتی ختم ہورہی ہے۔ ’علاقے کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی لوگوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ سیاحوں کو چاہیے کہ وہ گندگی پھیلانے سے گریز کریں۔

شائشتہ نے کہاکہ سیاحتی مقامات کی خوبصورتی ماند پڑتی جارہی ہے جس کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے ہم سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا، معاہدے سے سپلائی چین مستحکم ہوگا، نریندر مودی

بی این پی کا انتخابی منشور جاری، ’فیملی کارڈ‘ سمیت 9 بڑے وعدے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بارک اوباما سے متعلق شیئر کی گئی اپنی توہین آمیز ویڈیو کی خود ہی مذمت کردی

جماعتِ اسلامی کے امیر کی بی این پی چیئرمین کو براہِ راست عوامی مباحثے کی دعوت

ٹرمپ کا اوباما خاندان کے خلاف نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی سے انکار

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!