آئندہ کوئی بابا رحمتے جو ’زحمتے‘ بنے پیدا نہیں ہو گا، رانا ثناء اللہ

بدھ 29 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سوموٹو نوٹس کو فل کورٹ کی جانب لے جایا جائے تو معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے، آئندہ کوئی بابا رحمتے جو ’زحمتے‘ بنے پیدا نہیں ہو گا۔ بابا رحمتے کے فیصلوں نے عدالت کی بھی کوئی عزت نہیں بڑھائی۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی سیاست میں رواداری، آئین و قانون کی حکمرانی میں عدالت عظمٰی اپنا کردار ادا کرے۔ عدالت عظمٰی کے کردار ہی سے توازن آئے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدقسمتی سے پہلے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں عدالتوں پر شکوک و شبہات بڑھے، پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے، اس فیصلے میں معزز ججز کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ تین، دو کا فیصلہ ہے اور ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ چار، تین کا فیصلہ ہے یہ بھی معزز ججز ہی نے کہا ہے۔

رانا ثناء اللہ کے بقول’ کہا جا رہا ہے کہ یہ ججز کا اندرونی معاملہ ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوتا۔ اس لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کے اوپر ابہام دور ہونا چاہیے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ججز کی تقسیم پر پارلیمنٹ نے بروقت درست اقدام کیا۔ ازخود نوٹس کو پہلے 7 پھر 5 ججز نے سنا، ابہام دور کرنے کیلیے لارجر بینچ یا فل کورٹ تشکیل دینا چاہیے۔ ہماری پہلے بھی یہ استدعا رہی ہے، آج بھی ہماری یہ استدعا ہے کہ فل کورٹ بینچ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں میں ایک ساتھ انتخابات ہونے چاہئیں، الگ الگ الیکشن کے نتائج کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے، ہماری سمجھ کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کی تاریخ آگے بڑھانے کا اختیار ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس سے متعلق ایک ایکٹ پیش کیا گیا ہے، امید ہے آج اس پر پارلیمنٹ قانون سازی کر لے گی۔ اس ایکٹ میں یہ ضمانت ہو گی کہ آئندہ کوئی بابا رحمتے جو بعد میں ’بابا زحمتے‘ ثابت ہوتا ہے وہ دوبارہ نہ پیدا ہو سکے۔ اس بابا زحمتے کی لائی ہوئی زحمتیں آج تک قوم بھگت رہی ہے اور عدالت بھی بھگت رہی ہے۔ عدالت کے معاملات میں بھی بابا رحمتے کے اقدامات سے کوئی عزت افزائی نہیں ہوئی۔

رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں قوم اور سیاسی جماعتوں کی رہنمائی کرے گی اور اس معاملے کو اس انداز میں سلجھائے گی کہ اس پر سارے فریق متفق ہوں۔ سپریم کورٹ کے پاس اخلاقی اتھارٹی ہے، فیصلے سے پہلے فیصلے پر شکوک و شبہات دور کیے جانے بہت ضروری ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں، جیسا کہ کل جو دو معزز جج صاحبان کا فیصلہ آیا ہے، اس کے بعد بھی اگر پارلیمنٹ اپنا کردار ادا نہیں کرتی تو پارلیمنٹ پھر ایسے جرم کی مرتکب ہو گی جسے تاریخ  معاف نہیں کرے گی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جہاں کہیں بھی پارلیمنٹ کے قوانین میں، آئین میں کہیں سقم ہو تو اس سقم کو دور کرنا بھی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے نہ کہ کسی جج کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی 8 اکتوبر کی تاریخ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سپریم کورٹ کا فل بینچ بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

آزاد کشمیر الیکشن:ایل اے 15 میں پیپلز پارٹی، ایل اے 16 میں مسلم لیگ (ن) کامیاب

2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی فعال صوبہ بنانے کا ہدف

بیلجیم، گھر کی مرمت کے دوران دیوار سے 2 ارب 89 کروڑ کا سونا نکل آیا، اصل وارث کون؟، نئی بحث شروع

ایئر انڈیا پائلٹ کا بھنگ ٹیسٹ مثبت، کیا یہی طیارے کے اچانک نیچے آنے کی وجہ تھی؟

ویڈیو

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی