ڈراما سیریل ’ہابیل اور قابیل‘ کے اختتام پر عوامی رد عمل

ہفتہ 27 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہابیل اور قابیل جیو ٹی وی کا مشہور ڈراما سیریل ہے جو روزانہ رات 9 بجے نشر ہوتا ہے۔ یہ ڈراما سیون اسکائی انٹرٹینمنٹ پروڈکشن کی پیشکش ہے۔ اسے عبداللہ کادوانی اور اسد قریشی نے پروڈیوس کیا ہے۔ ڈرامے کی ہدایتکاری معروف ہدایت کار ابیس رضا نے کی ہے۔

ڈراما سیریل کی کہانی زنجابیل عاصم شاہ نے لکھی ہے۔ کاسٹ میں آغا علی، یشما گل، اسد صدیقی، نول سعید، محمود اسلم، ندا ممتاز، اریشا رازی، ضیا گورچانی، بینا چوہدری اور شبانہ شیخ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:جب ظہیر اقبال نے شتروگھن سنہا سے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تو باپ کا پہلا ردعمل کیا تھا؟

ہابیل اور قابیل کی کہانی 2 بھائیوں حارث اور قادر کے گرد گھومتی ہے جو حارث کی لڑاکا فطرت کی وجہ سے کشیدہ تعلقات رکھتے ہیں۔ ڈراما سیریل ’ہابیل اور قابیل‘ کی آخری قسط میں حورم اور قادر کے درمیان خوشگوار اختتام دکھایا گیا تھا۔ جبکہ ثوبیہ اور حارث کے لیے افسوسناک اختتام دکھایا گیا جہاں ثوبیہ نے طلاق لے لی اور گھر چھوڑ دیا۔

ڈراما سیریل ’ہابیل اور قابیل‘ کی آخری قسط پر ملے جلے رد عمل سامنے آرہے ہیں۔ بہت سے مداح قادر اور حورم کے خوبصورت اختتام سے خوش ہیں۔ شائقین ثوبیہ اور حارث کے اختتام پر بھی خوش ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ دونوں اپنی برے مزاج کی وجہ سے نامکمل یا افسوسناک انجام کے مستحق ہیں۔ کچھ لوگ ثوبیہ کے لیے اداس ہیں۔

مزید پڑھیں:ڈراما سیریل حسرت کی آخری قسط، ناظرین و شائقین کا ردعمل کیا ہے؟

مداحوں کا یہ بھی خیال ہے کہ حارث کے کردار کو سبق آموز اختتام کی ضرورت تھی کیونکہ انہیں کوئی سزا نہیں ملی اور وہ متعدد غلط کاموں کے بعد بھی آسانی سے فرار ہوگئے۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اختتام غیر تسلی بخش، نامکمل اور بورنگ تھا، اور اس نے کسی دوسرے اچھے ڈرامے کا اچھا اثر نہیں چھوڑا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا