موسمیاتی تبدیلی: سپریم کورٹ کی اٹارنی جنرل کو 15 اگست تک مکمل پالیسی جمع کرانے کی ہدایت

بدھ 31 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تعریف جبکہ وفاقی حکومت کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو اس ضمن میں 15 اگست تک مکمل پالیسی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینج نے ملک میں مؤثر موسمیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کے نفاذ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال بھی بینچ میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی کو نظر انداز کرنے پر کس کی سرزنش کی؟

سماعت کے آغاز پر وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ رومینہ خورشید عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے رومینہ خورشید کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اقدامات پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اب تک اٹھائے گئے اقدامات سے عدالت مطمئن نہیں، اگلی سماعت تک تفصیلات جمع کرائیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسی 15 اگست تک مکمل کرکے عدالت میں جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا وفاقی حکومت کو 2 ہفتے میں موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی قائم کرنے کا حکم

دوران سماعت چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے موسمیاتی تبدیلی پالیسی 2024 عدالت کے سامنے پیش کی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے عدالت کو آگاہ کیا۔

چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ 195 منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور بیشتر منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔

عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر صوبائی حکومت کو شاباش دی۔

چیف سیکریٹری بلوچستان نے بھی موسمیاتی تبدیلی پالیسی 2024 عدالت کے سامنے پیش کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے چیف سیکریٹری بلوچستان سے استفسار کیا کہ پالیسی جون 2024 میں بنائی گئی، اس پالیسی کے تحت اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب میں جسٹس منصور علی شاہ نے کیا کہا؟

چیف سیکریٹری بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 34.6 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، پالیسی کے تحت سرکاری اسکولوں اور ٹیوب ویلز پر سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی پالیسی کے تحت پانی کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس پر چیف سیکریٹری نے بتایا کہ پانی کے حوالے سے بلوچستان میں اس وقت 8 سے 10 منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے بلوچستان میں 141 ارب روپے سے 19 ڈیم بنائے جارہے ہیں۔

سندھ اور پنجاب نے گزشتہ سماعت پر موسمیاتی تبدیلی پالیسی اور اقدامات سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘