مہنگائی کی شرح 27 سے 9 فیصد پر، لیکن اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی کیوں نہیں؟

منگل 3 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ادارہ برائے شماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 3 سالوں میں ملک میں افراط زر کی شرح پہلی مرتبہ سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے، افراط زر کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو 34 ماہ کی کم ترین سطح ہے، اگست 2023 میں اسی عرصے کے دوران افراط زر کی شرح 27.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم کی محنت رنگ لا رہی ہے، معیشت ترقی کر رہی ہے، ہم نے اپنی سیاست کی قربانی دے کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں مہنگائی کی شرح سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

وی نیوز نے اس ضمن میں معاشی ماہرین سے گفتگو میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ مہنگائی کی شرح 27 سے 9 فیصد ہوجانے کے باوجود اشیا کی قیمتوں نمایاں کمی کیوں ممکن نہیں بنائی جاسکی ہے؟

ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق پاکستان میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 3 سال کے بعد سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب مختلف اشیا کی قیمتوں میں 9 فیصد تک اضافہ ہو رہا ہے جو کہ پہلے 27 فیصد تک ہوتا رہا ہے۔

’سال 2023 میں قیمتوں میں 29 فیصد تک کا اضافہ ہوتا رہا ہے، مہنگائی میں کمی کی وجہ ملک میں معاشی استحکام اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا کم ہونا ہے، فصلوں کی پیداوار بہتر ہوئی ہے۔‘

مزید پڑھیں:مہنگائی کے باعث 89 فیصد پاکستانیوں نے گھر سے باہر کھانا کم کردیا، گیلپ سروے

ڈاکٹر خاقان نجیب نے وی نیوز کو بتایا کہ اگر حکومت کو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی خواہاں ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کیا جائے، اس کے علاوہ جو شرح سود 22 فیصد سے ساڑھے 19 فیصد پر آئی ہے اس کو بھی بالکل بڑھنے نہ دیا جائے۔

’۔۔۔بلکہ اس میں مزید کمی کی جائے، اگر یہ کمی ہو جاتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ عوام کو ریلیف ملنا بھی شروع ہو جائے۔‘

ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ تین سالوں میں مہنگائی بڑھنے کی بنیادی وجہ اشیاء خورونوش اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ تھا، تاہم اب چونکہ ڈالر کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی زیادہ اضافہ نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ سیلاب کے بعد بمپر فصل ہونے کے باعث مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:معیشت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کررہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اشیا کی قیمتوں میں زیادہ کمی نہ ہونے کے حوالے سے خرم شہزاد کا موقف تھا کہ گزشتہ چند ماہ میں ایک مرتبہ مہنگائی کی شرح منفی بھی ہوئی تھی جس سے قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اس کے علاوہ مہنگائی بڑھ تو رہی ہے مگر اس کے بڑھنے کی شرح میں کمی ہو رہی ہے۔

’اس وقت حکومت کے پاس آپشن موجود ہے کہ شرح سود کو 15 فیصد سے بھی کم کر دیا جائے تاکہ لوگ سرمایہ کاری کریں، صنعتیں چلیں اور لوگوں کو روزگار میسر آئے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا