بجلی کی ہوشربا قیمتوں اور آئی پی پیز کو ادائیگیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

جمعرات 5 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بجلی کی ہوشربا قیمتوں اور آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی گئی ہے۔

پاکستان کے پاس بجلی کی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ، بجلی کی ترسیل کے نظام کی صلاحیت 23 ہزار میگاواٹ جبکہ پاکستان میں بجلی کی روزانہ طلب 15 ہزار میگاواٹ سے کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی قیمتوں میں کمی کے لیے مختلف منصوبے زیر غور، آئی پی پیز کے معاملے پر جلد خوشخبری دیں گے، وزیر توانائی

اس سب کے باوجود پاکستانی عوام 20 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ بجلی بنانے والے بند پلانٹس کی بجلی خریداری کے معاہدوں میں یہی لکھا ہوا ہے۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امتیاز گل نے سپریم کورٹ میں بجلی کی ہوش ربا قیمتوں اور کیپیسٹی پے منٹس کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ بجلی کی ہوشربا قیمتوں کا بڑا سبب کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں کی جانے والی ادائیگیاں ہیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کے معاملات بہت پیچیدہ ہیں، ان معاہدوں میں بین الاقوامی قوانین آڑے آتے ہیں، اس لیے درخواست گزار کی استدعا صرف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تحت چلنے والے پاور پلانٹس سے متعلق ہے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ نجی ملکیت میں بجلی گھروں کے ساتھ ساتھ وفاقی اور سرکاری حکومتوں کے ماتحت بجلی گھر بھی ڈالروں میں منافع لے رہے ہیں جو کہ ایک سنگین مذاق اور ڈکیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی پی پیز کیخلاف تحقیقات مکمل، کرپشن کی نشاندہی

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرے اور کم از کم 10 سال کی مدت تک جب تک ملک کی معیشت مستحکم نہیں ہوجاتی, تمام وفاقی اور صوبائی حکومت کے ماتحت چلنے والے بجلی گھروں کو اپنے اثاثہ جات پر منافع لینے سے روک دیا جائے۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ بجلی کے نرخ اور منافع کی شرح ڈالر کی بجائے مقامی کرنسی میں طے کی جائے، یہ بجلی گھر چونکہ غیر معمولی منافع کماتے ہیں، اس لیے ان کے اسٹاف کی تنخواہیں اور انتظامی اخراجات غیرمعمولی حد تک زیادہ ہوتے ہیں جنہیں 50 فیصد تک کم کرنے کی ضرورت ہے۔

’بجلی خریداری کے مرکزی ادارے کی جانب سے تاخیر سے کی جانے والی ادائیگیوں پر بھی آئی پی پیز منافع کماتی ہیں کیونکہ ان کو کریڈٹ لائن میسر ہوتی ہے، اس منافع کی تحقیقات کرائی جائیں اور قیمتوں میں کمی لائی جائے۔‘

درخواست گزار نے مزید استدعا کی ہے کہ بجلی کی ترسیل کے ذمے دار وفاقی ادارے نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو نان پرافٹ ادارہ قرار دیا جائے اور اس کے ترقیانی منصوبوں کو وفاقی حکومت فنڈز مہیا کر کے اسے منافع خوری سے بچائے۔

یہ بھی پڑھیں: معلوم نہیں وفاقی حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ کیا معاہدے کیے ہیں، مراد علی شاہ

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ حکومت نے 2015 سے لے کر اب تک آر ایل این جی اور گیس پر چلنے والے 26 بجلی بنانے والے کارخانوں کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں ایک ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں، مالی سال 25-2024 میں پاکستان کو بجلی بنانے والے کارخانوں کو 3 ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں، جن میں 1160 ارب بجلی کی قیمت جبکہ 1950 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 90 کی دہائی کے وسط سے لے کر اب تک پاکستان آئی پی پیز کو ٹیکس کی مد میں 1217 ارب روپے کی چھوٹ دے چکا ہے، جن میں مقامی، غیر ملکی اور سرکاری بجلی بنانے والے کارخانے شامل ہیں، تمام بجلی بنانے والی کمپنیوں کے منافع کی شرح 15 سے 29 فیصد کے درمیان ہے جبکہ منافع کی شرح ڈالر میں طے ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ روپے کی قدر کم ہونے سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 2028 تک جب داسو، بھاشا، منڈا، کوہالہ اور سوکی کناری کے 11 ہزار میگاواٹ کے پن بجلی منصوبے فعال ہو جائیں گے تو کیپیسٹی پیمنٹس کا مسئلہ اور سنگین ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: گوہر اعجاز نے ایک بار پھر بجلی کے زیادہ بلوں کی وجہ آئی پی پیز کو قرار دے دیا

’اگر روپے کی قدر اسی حساب سے گرتی رہی اور کوئی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو بجلی کے عام صارف کو بجلی کا ایک یونٹ 150 سے 200 روپے میں پڑے گا۔‘

درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اس درخواست کے حتمی فیصلے تک سرکاری بجلی گھروں کو کیپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگیوں کے حوالے سے حکم امتناع جاری کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم