ترکیہ کے زلزلے میں مردہ قرار دی جانے والی بچی 54 دن بعد ماں سے آن ملی

منگل 4 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے زلزلے میں مردہ قرار دی جانے والی ساڑھے تین ماہ کی ویتن بیگداس نامی بچی کو اس کی ماں سے 54 دن بعد ملوا دیا گیا۔

ساڑھے 3ماہ کی بچی کو ہفتے کے روز اس کی والدہ یاسمین بیگداس سے ملوایا گیا۔ اس بچی کو ترکیہ میں آنے والے خوفناک زلزلے میں 5دن تک ملبے تلے دبے رہنے کے بعد زندہ نکال لیا گیا تھا۔

طبی حکام نے اس بچی کو بچانے کے بعد اس کی دیکھ بھال کی اور اس کا نام گِزم(یعنی پراسرار) رکھا تھا۔

ترکیہ کی خاندانی اور سماجی خدمات کی وزیر دیریا یانیک کا کہنا ہے ڈی این اے کے ذریعے رشتہ ثابت ہونے کے بعد ماں بیٹی کو دوبارہ ملانے میں مدد ملی۔

وزیر دیریا یانیک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویڈیو شئیر کی جس میں ساڑھے 3ماہ کی بچی کو اس کی ماں سے ملواتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ترکیہ میں آنے والے خوفناک زلزلے میں اس بچی کے دو بھائی اور والد بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

ترکیہ کی ڈیزاسٹر اور ایمبرجنسی مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صرف ترکیہ میں 44،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ زلزلہ متاثرین کی تعداد 20 ملین سے زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘