ماسکو ایک کیفے میں بم دھماکے میں مارے جانے والے یوکرین جنگ کے حامی بلاگر کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون دہشت گردی کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔
خاتون ٹریپووا کو ماسکو لانے سے قبل سینٹ پیٹرزبرگ میں گرفتار کیا گیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے حامی روسی بلاگر ولادلن تاتارسکی کے قتل کے ایک مشتبہ شخص پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
دریا ٹریپووا کو سینٹ پیٹرزبرگ میں گرفتاری کے بعد ماسکو کی عدالت میں لے جایا گیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ 26 سالہ خاتون کو 2 جون تک حراست میں رکھا جائے۔

دھماکے میں مارا جانے والا یوکرین جنگ کا حامی روسی بلاگر۔ فائل فوٹواس حوالے سے گزشتہ دنوں سرکاری حکام کی جانب سے ایک ویڈیو بھی ریلیز کی گئی تھی جس میں گرفتار خاتوں کو اعتراف جرم کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ویڈیو میں ریپووا کو یہ اعتراف کرتے ہوئے سنا گیا کہ وہ کیفے میں ایک مجسمہ لائی تھی جو بعد میں دھماکے سے اڑا دی گئی۔ لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ وہ جانتی تھی کہ کوئی دھماکہ ہوگا، اور نہ ہی اس نے مزید کسی کردار کا اعتراف کیا۔
دوسری جانب آزاد ذرائع ریپووا کے اس اعتراف کو دباؤ میں دیے گئے اعترافی بیان کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ’ ولادلن تاتارسکی‘ کے قتل کی ذمہ داری یہ ایک غیر معروف گروپ ’نیشنل ریپبلکن آرمی‘ نے قبول کی تھی، اس گروپ نے پوٹن حکومت کے خلاف لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے، دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ حملہ کیا ہے۔
40 سالہ تاتارسکی اتوار کو سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک کیفے میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے جہاں وہ تقریر کرنے والے تھے۔ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا کہ اس کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ حملہ یوکرین کی سکیورٹی سروسز نے جیل میں بند روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی اینٹی کرپشن فاؤنڈیشن کی مدد سے کیا تھا۔














