مصنوعی ذہانت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، امریکی صدر بائیڈن

بدھ 5 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت خطرناک ہو سکتی ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی معاشرے پر اپنے کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشیروں کے ساتھ اجلاس کے آغاز پر بات کرتے ہوئے، صدر بائیڈن نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کے اجرا سے قبل ان کا محفوظ ہونا یقینی بنائیں۔

صدر بائیڈن نے سائنس اور ٹیکنالوجی پر صدر کی کونسل آف ایڈوائزرز کے افتتاحی اجلاس  کے موقع پر کہا کہ ان کی نظر میں اپنی مصنوعات کو عوام الناس کے لیے عام کرنے سے قبل ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی مصنوعات کو محفوظ بنائیں۔

امریکی صدر کا موقف تھا کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مصنوعی ذہانت سمیت ہر نئی ٹیکنالوجی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

’مصنوعی ذہانت خطرناک ہے؟ یہ ابھی دیکھنا ہے مگر یہ یقیناً ہو سکتی ہے۔‘

صدر جو بائیڈن کے مطابق مصنوعی ذہانت بیماری اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے لیکن ٹیکنالوجی سازوں کو ہمارے معاشرے، ہماری معیشت، ہماری قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرات کے حل بھی دریافت کرنا ہوں گے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے یہ تبصرے ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مصنوعی ذہانت کو ریگولیٹ کرنے کے بارے میں بحث جاری ہے۔ کچھ نمایاں شخصیات نے ٹیکنالوجی کی ترقی کو حفاظتی اقدامات کے مشروط رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مصنوعی ذہانت سے جڑے انقلابی چیٹ بوٹ  GPT-4 کے اجرا کے بعد ٹیکنالوجی کے مضر معاشرتی اور سماجی اثرات پر بحث سمیت نئی ٹیکنالوجی کی مخالفت میں بھی آوازیں ابھری ہیں۔

پچھلے مہینے شائع ہونے والے ایک کھلے خط میں ٹیسلا کے بانی ایلون مسک اور ایپل کے شریک بانی اسٹیو ووزنیاک سمیت ٹیکنالوجی سے وابستہ متعدد سرکردہ رہنماؤں نے ٹیکنالوجی کے معاشرے اور انسانیت پر مرتب ہونیوالے ممکنہ خطرات کے پیش نظر مصنوعی ذہانت کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

GPT-4 کے کیلیفورنیا میں مقیم تخلیق کار  کمپنی اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ نیا پلیٹ فارم کچھ شعبوں میں انسانی سطح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہے، جس میں درخواست دہندگان کے اعلٰی 10 فیصد میں اسکور کے ساتھ بار کا امتحان پاس کرنے کے قابل ہونا بھی شامل ہے۔

اٹلی گزشتہ ہفتے ChatGPT پر پابندی لگانے والا پہلا مغربی ملک بن گیا ہے جب اس کے ڈیٹا پروٹیکشن کی نگرانی پر مامور ادارے نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

یورپی یونین کے قانون ساز 27 ممالک کے بلاک میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے قواعد و ضوابط پر بات چیت جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp