دمہ سے بچاؤ ممکن ہے؟

جمعرات 12 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں ہرسال ڈھائی لاکھ افراد کو لقمہ اجل بنانے والا ’دمہ‘ قابل علاج ہے اور ماہرین طب کے مطابق تھوڑی سی توجہ دے کر اس جان لیوا مرض پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دنیا میں تقریباً 30 کروڑ افراد دمہ کے مرض میں مبتلا ہیں۔ پاکستان کی کل آبادی کا سات فیصد (ڈیڑھ کروڑ) دمہ کے مرض کا شکار ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ہرسال عوام الناس کو آگاہی دلانے کے لیے’دمہ کا عالمی دن‘منایا جاتا ہے تاکہ مریضوں کو مرض کے متعلق بتایاجاسکے۔

عالمی سطح پر ہر مئی کے پہلے منگل کے دن دمہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کی ابتدا 1998 میں ہوئی تھی۔

کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ (ماہر امراض پھیپھڑا) ڈاکٹر جاوید حیات خان کا کہنا ہے کہ دمہ قابل علاج مرض ہے اورآج کے ترقی یافتہ دور میں کسی بھی مریض کی جان اس مرض میں نہیں جانی چاہیے۔

دمہ کا عالمی دن ہر سال ایک منفرد تھیم کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس سال دمہ کے عالمی دن کی تھیم ‘دمہ کا علاج، کل نہیں آج’ ہے۔

اس تھیم کا مقصد لوگوں میں یہ آگاہی اور شعور بیدار کرنا ہے کہ دمہ کی تشخیص اورعلاج میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

دمہ کے علاج کے لیے کسی مناسب وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جیسے ہی اس کی علامات ظاہر ہوں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دمہ کے عالمی دن کے موقع پر ’تھیم‘ کا انتخاب گلوبل انیشیٹو فار ایزما (Global Initiative for Asthma) کرتا ہے۔

دمہ کیا ہے؟
دمہ سانس کی بیماری ہے جسے طبی زبان میں ایزما (Asthma) کہا جاتا ہے۔

میڈیکل سائنس میں کہا جاتا ہے کہ دمہ پھیپھڑوں کی دائمی بیماری ہے۔ اس میں سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور مریض کوسانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔

اس بیماری میں بنیادی طور پرپھیپھڑوں کی دوبڑی نالیاں جو سانس لینے میں مددگار ہوتی ہیں سوجن کا شکار ہو جاتی ہیں۔

دمہ عمومی طور پر کسی الرجی کے ردعمل یا دیگر امراض کے باعث زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ یہ مرض مؤروثی بھی ہوتا ہے۔

دمہ کی علامات
تھوڑی سی حرکت سے سانس پھول جانا اوربحال ہونے میں بہت وقت لگنا۔

سینے کی جکڑن۔
سانس لینے میں تکلیف۔
سانس لینے کے دوران ’سیٹی‘ کی آواز آنا۔
کھانسی۔
سینے کے انفیکشن کا باربار ہونا۔
دوران نیند بے چینی۔
رات اور صبح کے اوقات میں ان علامات میں زیادتی ہونا۔

دمہ سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
چھوٹی چھوٹی چیزوں میں احتیاط کرکے اس دائمی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔

سگریٹ نوشی سے گریز کیا جائے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھا جائے جو سگریٹ نوشی کر رہے ہوں۔
پالتو جانوروں کوبستراورفرنیچرسے دوررکھیں۔
اپنے تکیے اور بستر کوجراثیم سے بچانے کے لیے باقاعدگی سے دھوئیں۔
بیڈ رومزمیں قالین بچھانے سے اجتناب برتیں۔
گھرکی صفائی میں کیمیکل اوربلیچ کے استعمال سے گریز کریں۔
پریشانیوں اورذہنی تناؤ سے جتنا ممکن ہو دور رہیں۔ یہ سانس کے مرض کی بڑی وجوہات بن سکتی ہیں۔

دمہ کا علاج

دمہ کے علاج میں ہوا کی نالیوں کو کشادہ کرنے والی ادویات کا استعمال سب سے مؤثر طریقہ مانا جاتا ہے۔ فوری علاج کے لیے ان ادویات کو براہ راست ہوا کی نالیوں اور پھیپھڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے انہیلراورنیبولائزرکا استعمال کیا جاتا ہے۔

بلغم نکالنے والی اوراینٹی الرجی ادویات بھی دمہ کے علاج میں بہت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

چھ ماہ کی ویکسین کے کورس کے ذریعے بھی دمہ کا علاج کیا جاتا ہے لیکن اس طریقہ علاج سے 100 فی صد نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

یوگا بھی دمہ کے علاج کا لیے ایک مؤثر طریقہ تصور کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ