آزاد کشمیر: احتجاجی دھرنے میں شریک ایڈہاک ملازمین کا مستقبل کیاہوگا؟

جمعہ 20 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں سینکڑوں ایسے ایڈہاک  ملازمین احتجاج کررہے ہیں جن کو  برسوں سے مختلف حکومتوں نے بھرتی تو کیا لیکن انہیں  مستقل  کرنے کی کوئی پالیسی مرتب نہیں کی گئی، ان میں سے کئی ملازمین نے دارالحکومت مظفرآباد میں سہیلی سرکار چوک پر گزشتہ 3 روز سے دھرنا دیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر، بجلی سستی ہونے کے باوجود 70 فیصد لوگوں نے بل کیوں نہیں جمع کروائے؟

اس دھرنے میں موجود  ایک ایڈھاک ملازم راجہ جیلانی نے وی نیوز کو بتایا کہ آزاد کشمیر میں  2021 میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک ایکٹ منظور کیا تھا جس کے تحت  لگ بھگ 5 ہزار ایڈہاک ملازمین کو مستقل کیا گیا تھا، جن میں  اسکیل ایک سے 18 تک کے ملازمین شامل تھے۔

جولائی 2021 میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور اقتدار میں  آتے ہی ایکٹ آف پارلیمنٹ کو اسمبلی کے ذریعہ ختم کر کے ان کی حیثیت ایک مرتبہ پھر عارضی کردی گئی، ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جن کی سروس 10 سال سے زیادہ اور عمر 40 سال ان کو بحال کیا جائے گا۔‎

راجہ جیلانی کے مطابق آزاد کشمیر حکومت کی کابینہ کمیٹی نے سفارشات تیار کی ہیں، جنہیں محکمہ قانون سے ویٹنگ کے بعد اب محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن بھیجا گیا ہے، تاہم اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے، دھرنے میں شریک ملازمین کا مطالبہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں منظور شدہ ایکٹ بحال کیا جائے تاکہ تمام ملازمیں مستقل ہوسکیں۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر: وادی نیلم میں سیاحوں کی گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی

احتجاجی ملازمین کا موقف ہے کہ انہوں نےخود اپنے آپ کو سرکاری ملازمتیں نہیں دیں بلکہ مختلف حکومتوں نے ان کو ملازمتیں فراہم کی تھیں، جن میں ایسے ملازم بھی شامل ہیں جو 20 سال سے ملازمت کررہے ہیں۔ ’ان کی نوکریاں ختم کی جائیں گی تو وہ کیا کریں گے۔

دھرنے میں شریک ملازمین کا کہنا ہے کہ روزگار کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے نہ کہ روز گار چھین کر بچوں کو بھوک اور افلاس پر مجبور کردے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اس لیے احتجاج کررہے ہیں کہ ان کے بچے بھوک اور افلاس کا شکار نہ ہوں جبکہ حکومت الٹا انہی کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر: ہیلتھ کارڈ کی فراہمی میں پیشرفت جاری ہے، وزیرخزنہ عبدالماجد

حکومت آزاد کشمیر 4 ہزار سے زائد ملازمیں کو فارغ کرکے اپنے عارضی ملازمین بھرتی کرنے کے لئے اخباروں میں اشتہار بھی جاری کر چکی ہے، حکومت کا موقف ہے کہ ملازمین پبلک سروس کمیشن کے بغیر بھرتی کیے گئے ہیں، خلاف ضابطہ بھرتی شدہ لوگ پبلک سرس کمیشن کے سامنے پیش ہوں۔

دوسری جانب ملازمین کا موقف ہے کہ 15 سے 20 سال تک ملازمت کرنے والے جریدہ اور غیر جریدہ ملازمین، اپنی عمر زیادہ ہونے کے باعث پبلک سروس کمشن کے امتحان کے لیے نااہل ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

معروف PUBG کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال کیسے ہوا؟ موت کی وجہ سامنے آگئی

اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ