اتفاق رائے نہ ہوا تو آئینی ترمیم میں ملٹری کورٹس والی شق سے پیچھے ہٹ جائیں گے، رانا ثنااللہ

جمعہ 27 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی رابطہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم میں ملٹری کورٹس سے متعلق شق پر اتفاق رائے نہیں ہوتا تو ہم اس سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل پہلے سے موجودہ قانون کے مطابق بھی ہوسکتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے ہو۔

یہ بھی پڑھیں آئینی ترمیم پر تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، رانا ثنااللہ کا دعویٰ

انہوں نے کہاکہ ہم مولانا فضل الرحمان کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، عدالتی اصلاحات سے متعلق ترامیم کا مقصد ہے کہ جوڈیشل کمیشن ججز کی کارکردگی کا پوچھے۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ 63 اے کا فیصلہ تبدیل ہونا چاہیے، کہیں نہیں لکھا کہ پارلیمنٹ بھی سپریم کورٹ کے تابع ہے۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آمر کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا، بتایا جائے یہ اختیار عدالت کو کس نے دیا؟

انہوں نے کہاکہ ادارے اپنی حدود میں رہیں تو بحران نہیں پیدا ہوتا، سپریم کرٹ کو صرف آئین کی تشریح کا اختیار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ جو کہے گا وہ آئین ہے، یہ کس آرٹیکل میں لکھا ہے؟

انہوں نے کہاکہ ہم نے آئینی ترمیم کا مسودہ فضل الرحمان کے سامنے رکھا تو انہوں نے بہت سے سوالات اٹھائے جو ان کا حق تھا۔ آئینی ترمیم کے لیے جے یو آئی کے بغیر ہمارے نمبر پورے نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں عدالتی نظام میں بہت سی تبدیلیاں ہونی چاہییں مگر آئینی ترمیم کے لیے حکومت کے پاس نمبر پورے نہیں، رانا ثنااللہ

مشیر وزیراعظم نے کہاکہ آئینی ترمیم کے لیے تمام چیزیں مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے تھا، صدر، وزیراعظم مولانا کے پاس گئے تو ہم نے سمجھا کہ معاملات فائنل ہوگئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟