بلوچستان اسمبلی بلڈنگ کی تعمیر نو ہائیکورٹ میں چیلنج

ہفتہ 5 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان اسمبلی کی عمارت کو گراکر اسے 5 ارب روپے کی لاگت سے دوبارہ تعمیر کا منصوبہ بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی عمارت کو گرانے کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسمبلی کی عمارت بلوچستان کی ثقافت کا آئینہ دار ہے، اسمبلی کی عمارت گراکر نئی عمارت کے لیے 5 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنا آئین کے آرٹیکل 28 کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اسمبلی کی عمارت گرانے کا فیصلہ، نئی تعمیر پر کتنی رقم خرچ ہوگی؟

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ عمل بلوچ و پشتون قومیتوں کی شناخت مٹانے کے مترادف ہے، نیز اسمبلی کی عمارت کو گراکر 5ارب روپے خرچ کرنا قومی وسائل کا ضیاع ہے اور یہ عمل سیاسی عداوت و بدنیتی پر مبنی ہے۔

درخواست میں وزیراعلی ، اسپیکر و ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت کو اسمبلی کی بلڈنگ گرانے سے روکا جائے۔

یاد رہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی عمارت کو مسمار کر کے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے 5 ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے، فیصلے کے تحت اسمبلی کی عمارت کو گرا کر دوبارہ نئی طرز پر تعمیر کیا جائے گا جو تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اور بلوچستان اسمبلی میں منشیات کا کاروبار کرنے والے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، مولانا ہدایت الرحمان

اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان نے بتایا کہ ایوان میں ممبران کے بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ موجود نہیں، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر چیز ناکارہ ہوتی جارہی ہے۔

حکومت کی جانب سے اسمبلی کی عمارت کو مسمار کرکے دوبارہ تعمیر کرنے کے فیصلے کو عوام میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی نے عمارت کی تزئین و آرائش کا مشورہ دیا ہے، جبکہ تاریخی ورثے کی حامل اس عمارت کو مسمار کرنا نامناسب عمل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے باہر بیک وقت 4 احتجاجی مظاہرے، ارکان اسمبلی سے مذاکرات

عوامی حلقوں کا موقف ہے کہ حکومت کو 5 ارب روپے سے زیادہ کی رقم اسمبلی عمارت کی تعمیر میں نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ ’ایک جانب جہاں صوبے میں تعلیم، صحت، بے روزگاری سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں اسمبلی عمارت کی دوبارہ تعمیر حکومت کی غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے، ایسا اقدام صرف رقم کا ضیاع ہوگا‘۔

بلوچستان اسمبلی کی تاریخی اہمیت

بلوچستان اسمبلی کی موجودہ عمارت ایک خیمے کی طرز پر تعمیر کی گئی ہے جسے بلوچی زبان میں گدان کہا جاتا ہے۔ 12 ایکڑ کے رقبے پر پھیلی بلوچستان اسمبلی کی اس عمارت کا سنگ بنیاد 1973 میں اس وقت کے گورنر نواب محمد اکبر خان بگٹی نے رکھا تھا۔

15 سال کی طویل مدت کے بعد یہ عمارت مکمل ہوئی اور اس اسمبلی بلڈنگ کا افتتاح 28 اپریل 1987 کو اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو نے کیا۔

بات کی جائے اگر ایوان میں گنجائش کی تو اسمبلی احاطے میں 72 اراکین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ 25 نشستیں سرکاری حکام اور 25 نشستیں مہمانوں کے لیے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ عام لوگوں کے بیٹھنے کے لیے وزیٹر گیلری میں 168 جبکہ میڈیا کے لیے 25 نشستیں موجود ہیں، بلوچستان اسمبلی کا ایوان 65 اراکین پر مشتمل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شادی کا جھانسہ، نازیبا ویڈیوز سے بلیک میلنگ، کراچی میں ملزم گرفتار

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: فیڈرل سروس ٹریبیونل کا حکم کالعدم، ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال

یوگنڈا سے واپس آنے والی سفارتکار کی اہلیہ میں ایبولا وائرس کی تصدیق، نائیجیریا میں 44 افراد زیرِ نگرانی

13سالہ لڑکی کے قتل کی کہانی پر مبنی اطالوی فلم نیٹ فلکس کی غیر انگریزی فلموں میں سرفہرست

سپریم کورٹ نے ریلوے افسران کی سنیارٹی سے متعلق ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟